محمد مدثر رضوی عطاری ( درجہ سابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
فون نمبر ،
03708316429
پیارے
اسلامی بھائیو! ہمارا دین بہت ہی پیارا دین ہے جس طرح ظاہری
گناہوں کے بارے میں پیارے دین میں بتایا گیا اسی طرح باطنی گناہوں کے بارے میں بھی دین میں بتایا گیا ظاہری گناہ چوری فسق و فجور
جھوٹ غیبت وغیرہ اسی طرح باطنی گناہ بغض کینہ حسد تکبر وغیرہ وغیرہ ان کے بارے میں
بھی شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو سمجھایا آج کا موضوع بغض و کینہ کے بارے میں ہے۔
آئیے بغض و کینہ کی تعریف پڑھتے ہیں:
کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ
جانے اس سے غیر شرعی دشمنی ہو بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی
رہے۔
یہ کینہ
اور بغض کی تعریف بیان کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بغض و کینہ کا حکم بھی بیان
کرتا جاؤں:
پیارے
اسلام بھائیو! حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے احادیث مبارکہ میں بھی بغض و کینہ کے متعلق بتایا اور اس سے منع فرمایا۔ آئیے
چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں:
(1)آپس
میں بغض نہ رکھو: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ
عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا
وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ
وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ
وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ
مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ
اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ
وَعِرْضُهٗ‘‘(رَوَاهُ
مُسْلِم)
حضرت سیِّدُنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے
سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع
تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی
بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ
اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے
سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص
کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر
مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم، كتاب البر والصلۃ
والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص321، حدیث 6541:)
مشکل
الفاظ کے معانی : ’’النَّجَشْ‘‘ کسی سامان کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی
جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کردےحالانکہ وہ
خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ ’’تَدَابُر‘‘یہ ہے کہ ایک شخص
دوسرے سے بے رخی کرے اور اسے اس طرح چھوڑدے جیسے کوئی چیز پیٹھ کے پیچھے ہوتی ہے۔
( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث
نمبر:235)
(2)تمہارے
دل میں کسی کے لئے کینہ و بغض نہ ہو: حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
تاجدار مدینہ، راحت قلب و سینہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: يَا بُنَى إِنْ قَدِرْتَ أنْ تُصْبِحَ وَ
تُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِلٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلُ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو
سکے کہ تمہاری صبح و شام ایسی حالت میں ہو کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ و بغض
نہ ہو تو ایسا ہی کیا کرو ۔ (ترمذی، کتاب العلم، 309/4 ، الحدیث: 2687)
(3)کینہ
والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے: وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ
رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ
تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ
خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ
روایت
ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے
کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306 )
(4)لوگوں
میں سے کون افضل ہے؟ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى
اللَّه عليه وسلم: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ: كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ
صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ
الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ،
وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ
روایت
ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟
فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا،
لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟
فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5221 )
کینہ کی
ہلاکت خیزیاں:
میٹھے
اسلامی بھائیو! کینہ وہ مہلک (یعنی بلاک کر دینے والی ) باطنی بیماری ہے جس میں
مبتلا ہونے والا دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے مضر( یعنی نقصان
دہ) اثرات سے اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی نہیں بچ پاتے اور یوں یہ بیماری
عام ہو کر معاشرے کا سکون برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی
ہیں ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں، ذلیل ورسوا کرنے اور مالی نقصان
پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے
تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں جس سے فتنہ و
فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مثالیں کھلی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہیں۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس مہلک بیماری سے بچائے۔
اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امين
بجاه النبی الأمين ﷺ
Dawateislami