محمد
اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
03227713821
بغض وکینہ
وہ ہلاک کر دینے والی باطنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات سے اس کے آس پاس رہنے والے
افراد بھی نہیں بچ پاتے اور یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سکون برباد کر کے
رکھ دیتی ہے۔ خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی
ہیں، ذلیل ورسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اپنے مسلمان
بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے
خلاف سازشیں کی جاتی ہیں جس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مثالیں
کُھلی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں۔
آئیے بغض وکینہ کی تعریف،حکم اور احادیث مبارکہ
کی روشنی میں اس کی مذمت پڑھتے ہیں۔
بغض وکینہ
کی تعریف: بغض وکینہ
یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت
کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،
القول فی معنی الحقد الخ، 3/ 222)
بغض وکینہ
کا حکم: کسی بھی
مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت
سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ، السادس
العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ، 1/ 429)
(1)
رحمت و مغفرت سے محرومی: پندرہ
شعبان المعظم کی رات کتنی نازک ہے ! نہ جانے کس کی قسمت میں کیا لکھ دیا جائے ! ایسی
اہم رات میں بھی کینہ پرور بخشش و مغفرت کی خیرات سے محروم رہتا ہے۔جیسا کہ امُّ
المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان
شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب
کرنے والوں پر رحم فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ
دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة الخ،3/383 حدیث:2835 )
(2)بخشش
نہیں ہوتی: مسلمانوں کا کینہ اپنے سینہ میں
پالنے والوں کے لئے رونے کا مقام ہے کہ خدائے رحمن کی طرف سے ہر پیر اور جمعرات کو
بخشش کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں لیکن کینہ پرور اپنی قلبی بیماری کی وجہ سے بخشے
جانے والے خوش نصیبوں میں شامل ہونے سے محروم رہ جاتا ہے! جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن
لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ
ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : أَتُرُكُوا أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى
يَفِينَا ان دونوں
کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں ۔ (صحيح مسلم ، كتاب البر
والصلۃ ، باب النهي عن الشحناء ، ص 1388، الحديث 2565)
(3)دین
کو مونڈ دیتا ہے: ایمان ایک انمول دولت ہے اور ایک مسلمان کے لئے ایمان کی
سلامتی سے اہم کوئی شے نہیں ہو سکتی لیکن اگر وہ بغض و حسد میں مبتلا ہو جائے تو ایمان
چھن جانے کا اندیشہ ہے، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ
الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ
تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ تم میں پچھلی امتوں کی بیماری
حسد اور بغض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی
ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(سنن الترمذی ، كتاب صفۃ القيمۃ ، 4/ 227 ، الحديث
: 2518)
(4) کینہ
پروری دوزخ میں لے جائے گی: جہنم
کے عذابات اس قدر خوفناک اور دہشتناک ہیں کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ، وہاں دنیا
کی آگ سے ستر گنا تیز آگ ہوگی جو کھالوں کو جلا کر کوئلہ بنادے گی ، ہڈیوں کا سرمہ
بنادے گی اورلوہے کے بڑے بڑے ہتھوڑوں سے اسے پیٹا جائے گا۔ اسی قسم کے بے شمار رنج
و الم اور تکلیفوں سے بھر پور جگہ ہوگی جہاں دیگر گناہگاروں کے ساتھ ساتھ چغل خور
اور کینہ پرور بھی جائیں گے۔ چنانچہ سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ
لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ
بے شک
چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو
سکتے ۔ (المعجم الاوسط ، باب العين ، من اسمہ عبد الرحمن 301/30، الحديث 4653)
(5 )جنت
کی خوشبو بھی نہ پائے گا:حضرت سید نا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ اللہ
الوہاب نے خلیفہ ہارون رشید کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اے حسین و جمیل
چہرے والے ! یا درکھ! کل بروز قیامت اللہ عزوجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے
گا۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خوبصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی
صبح یا شام اس حال میں نہ کرنا کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت
ہو۔ بے شک رسول الله ﷺ نے ارشادفرمایا: مَنْ أَصْبَحَ لَهُمْ غَاشًّا لَمْ يَرِحْ
رَائِحَةَ الجَنَّةِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی
خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ یہ سن کر خلیفہ ہارون رشید رونے لگے ۔ ( حلیۃ الأولياء،
8/108 الحديث 11536)
پیارے
اسلامی بھائیو! مذکورہ احادیث مبارکہ میں
بیان ہوا کے بغض وکینہ رکھنے والا دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ورسوا ہوتا
ہے۔
لہٰذا
بغض وکینہ سے بچنے کے چند علاج عرض کرتا ہوں:
(1) ایمان
والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے۔
(2) کینے
کے اسباب (غصہ، بدگمانی ، شراب نوشی ، جو اوغیرہ ) دور کیجئے۔
(3) سلام
و مصافحہ کی عادت بنا لیجئے۔
(5) بے
جا سوچنا چھوڑ دیجئے۔
(6)
مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کیجئے۔
(7) دنیاوی
چیزوں کی وجہ سے بغض وکینہ رکھنے کے نقصانات پر غور کیجیے۔
اللہ
عزوجل عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami