محمد محسن علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق الاعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
فون نمبر
:03704351523
پیارے اسلامی بھائیو! آیئے بغض و کینہ کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ
کیجیے:
(1)دل میں
کینہ نہ رکھو:روایت
ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام
ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ
اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور
جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175 )
(2)ایک
دوسرے سے بغض نہ کرو: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب
جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ
نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله
کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت
میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:5028)
(3)روایت
ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی
اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ
ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781
(4)ہفتے
کے دوران اعمال کا پیش ہونا: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر ہفتے کے
دوران یعنی پیر اور جمعرات والے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور بعض کینہ
کرنے والے دو بھائیوں کے علاوہ تمام کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ
بغض کینہ کرنے والے کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بغض و کینہ سے واپس لوٹ
آئیں۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6547)
(5)بڑی
خصلت: حضور
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض یا حسد ایسی بری خصلت ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کا دین
اور اخلاق تباہ و برباد ہو جاتا ہے بلکہ یہ خصلت دین اور دنیا دونوں کے لیے نقصان
دہ ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 4967)
Dawateislami