pH   03323598339

تمہید جس طرح انسان اپنے کاروبار کو بڑا کرنے کے لیے دن رات کوشش کرتا اور کاروباری خامیاں دور کرتا ہے ایسی ہی اپنی آخرت کو بہتر بنانے کیلئے بھی اس راہ میں پیش آنے والی خامیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے ان خامیوں میں جیسے حسد ،تکبر اور بغض و کینہ شامل ہیں ہمیں ان سے بچ کر اپنے آپ کو ایک کامیاب مسلمان بنانے کے لیے ہر دم کوشاں رہنا چاہیے ۔

یہ بھی دل کی پاکیزگی : انسان کو اپنی آخرت بہتر بنانے کیلئے اعمال کے ساتھ ساتھ دل کی پاکیزگی کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے :

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

ترجمہ :روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد (ابن ماجہ، بیہقی شعب الایمان)(حوالہ ،شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5221)

ہر چیز کا کوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے۔دل کا کوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے دل میلا ہوتا ہے،پھر جیسے ناپاک بدن مسجد میں آنے کے قابل نہیں ایسے ہی ناپاک دل مسجد قرب الٰہی کے قابل نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ

کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ہر شخص کو اپنی بخشش کے اسباب اختیار کرنے چاہیے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس سبب سے اس کی بخشش نہیں ہوسکتی تاکہ محنت و مشقت صحیح راہ میں اٹھائی جاسکے :

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ

ترجمہ : روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا :الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

کینہ اتنا برا: ایک مسلمان کی عظمت و شان کیا ہے کہ کسی کو بھی اس کے بارے برا خیال رکھنے تک کی اجازت نہیں, کاش یہ حدیث ہمارے ذہن میں راسخ ہو ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب "تحریم الہجر فوق ثلاث بغیر سبب شرعی،حدیث نمبر: 2565،صفحہ: 1396 )

دین کو مونڈتی: دین کو سلامت رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اسی پر انسان کی کامیابی و کامرانی کا مدار ہے اور دین کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے ہر دم بچنا چاہیے اور ان نقصان دہ چیزوں کا علم بھی رکھے جیسے کہ حدیث پاک میں ہے : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے ۔ ( الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب "فی الحسد والبغضاء،حدیث نمبر2510،صفحہ 222)

اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین