فون نمبر = 03246535883

بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے ۔ ‘‘ بغض و کینہ کی قرآن وحدیث اور بزرگان دین کےاقوال میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

صدرُالافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔

( 1 ) دعا قبول نہیں ہوتی :

حضرت سید نا فقیہ ابواللیث سمرقندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں کی جاتی : (پہلا) حرام کھانے والا (دوسرا) کثرت سے غیبت کرنے والا اور ( تیسرا) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد موجود ہو ۔ ( درة الناصحين :صفحہ نمبر : 70 ) (رسالہ: بغض وکینہ ، صفحہ نمبر : 12 مکتبۃ المدینہ )

(2) بخشش سے محرومی :

سراج منیر ، محبوب رب قدیرﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: أَتُرُكُوا أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئا ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں۔ ( صحیح مسلم شریف ، کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحناء ، صفحہ نمبر : 1388 ، حدیث نمبر : 2565 )

( 3 ) اللہ کی رحمت سے محرومی :

اللہ پاک کے محبوب ، دنائے غیوب کا فرمان عالیشان ہے : اللہ عزوجل( ماہ ) شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر ( اپنی قدرت کے شایان شان ) تجلی فرماتا ہے ، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔( کتاب : شعب الایمان ، باب فی الصیام ، ماجاءفی لیلۃ النصف من شعبان ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 382 ، حدیث نمبر : 3835 )

( 4 ) بغض نہ رکھو :

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ ( فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مسلمانوں کی حرمت ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 280 ، حدیث نمبر : 235 ، مکتبۃ المدینہ )

( 5 )جنت کی خوشبو سے محرومی :

حضرت سید نافضيل بن عياض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے خلیفہ ہارون رشید کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا "اے حسین و جمیل چہرنے والے ! یا د رکھ! کل بروز قیامت اللہ عز وجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا ۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خوبصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح یا شام اس حال میں نہ کرنا کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔ بے شک رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ أَصْبَحَ لَهُمْ غَاشًا لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ یہ سن کر خلیفہ ہارون رشید رونے لگے ۔( حلیۃ الاولیاء ، جلد نمبر : 8 ، صفحہ نمبر : 108 ، حدیث نمبر : 11536 )

ہمیں کسی بھی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض وکینہ ہرگزنہیں رکھنا چاہیے ، بغض وکینہ دین کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، بغض وکینہ رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے بغض وکینہ سےمحفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


اللہ قادر مطلق عزوجل نے اپنی حکمت کاملہ سے اس جہاں دید آراں میں نوع انسانی کو مختلف طبیعتوں میں پیدا فرمایا، ہر طبیعت میں دوسری سے جدا رنگ بسایا، اور دیگر مخلوقات میں اسے عقل عطا کر کے اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا،چونکہ صرف عقل، نور وحی کے بغیر ہدایت کے لیے کافی نہ تھی تو اپنے چنے ہوئے بندوں کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان تک اللہ تعالی کی آیات و احکامات پہنچائیں،اور ان کی جانوں کو بری صفات اور مذموم اخلاق کی پستیوں سے نکال کر پاکیزگی اور ستھرائی کی اعلی بلندیوں تک پہنچائیں۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! بغض و کینہ بھی انہیں بری صفات کی زنجیر کی ایک ایسی کڑی ہے کہ صوفیا کے نزدیک ہر برائی کی جڑ ہے ( دیکھیے روضۃ العقلاء ونزنۃ الفضلاء ص١١٩) اور قرآن میں ہمیں اپنے دلوں کو اس مہلک بیماری سے پاک رکھنے کی تعلیم ہے:

وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

نیز اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ﷺ نے اس کی نہایت مذمت فرمائی۔ آئیے ان کی فرامین مبین کے نور سے اپنے دلوں کے لیے اس مرض سے شفا کا سامان کیجیے:

کینہ پروری جہنم میں: نبی رحمت ، شفیع امت، مالک جنت، قاسم نعمت ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:"بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے"(المعجم الاوسط ، جلد 3، صفحہ 301، حدیث نمبر 4653، دار احياء تراث بيروت)

دین کی بیخ کنی:

دافع رنج و ملال، شہنشاہ خوش خصال، صاحب جود و نوال، ﷺ نے ارشاد فرمایا:"پہلی امتوں کی بیماری بغض اور حسد تم میں بھی سرایت کر جائے گی یہ اکھیڑ دینے والی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو اکھیڑ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کی بیخ کنی کر دیتی ہے"(شعب الايمان للبیہقی جلد6، صفحہ 424، حدیث نمبر 8747، دارالباز مکۃ المکرمہ)

نیکیوں کو کھا جانا:

محبوب رب العزت، محسن انسانیت،صاحب جود و سخاوت ﷺ نے ارشاد فرمایا:"بے شک کینہ اور حسد یہ دونوں نیکیوں کو ایسے کھا جاتے ہیں جیسے آگ لکڑیوں کو کھاتی ہے"(تنبیہ الغافلین، صفحہ 141، مکتبۃ العلم الحدیث، المطبعہ العالمیہ)

مغفرت سے محرومی:

مختلف احادیث میں آیا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والے شخص کا دامن عظمت و شرف والی راتوں میں بھی مغفرت سےمحروم ہی رہتا ہے جن کا بیان درج ذیل ہے :

15 شعبان کی شب محرومی:

مخزن جود و سخاوت، پیکر عظمت و شرافت ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:"اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو مشرک اور بغض و کینہ رکھنے والے کے علاوہ تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے"(المعجم الکبیر جلد 20 صفحہ 109 دار احياء التراث بيروت)

پیر اور جمعرات کے دن محرومی:

دو جہاں کے تاجور، سلطان بحر و بر، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:"ہر ہفتہ کے دوران پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں "(صحیح مسلم حدیث 6547، صفحہ 1127، دارالسلام ریاض)

جمعرات اور جمعہ کے دن محرومی:

خاتم المرسلین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:"جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپس میں صلح کر لینے تک موخر کر دو"(جامع الاحادیث، جلد 3، صفحہ 12، حدیث نمبر 6975)

بغض و کینہ ایسی مہلک بیماری ہے کہ جو انسان کے دامن کو نہایت ہی عظمت اور برکت والے دنوں مثلا جمعہ، جمعرات، پیر شریف حتی کہ 15 شعبان کی شب بھی مغفرت سے محروم رکھتی ہے، آگ کی طرح نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور دین کی بیخ کنی کر کے جہنم کی طرف جانے کا سامان کر دیتی ہے۔

اللہ تعالی ہر مسلمان کو مطہر قلوب منزہ عن العیوب ﷺ کے صدقے سے بغض و کینہ جیسی مہلک ترین بیماری سے دائمی حفاظت مقدر فرمائے۔ آمین 


نمبر 03259632216

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

آئیے ہم بھی بغض و کینہ کی مذمت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا :

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (شرح اربعین نووی(اردو)،حدیث 35)

(2) مسلمانوں کی حرمت :

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ (فیضان ریاض الصالحین،جلد 3 صفحہ نمبر 280حدیث 235)

(3) اللہ تعالیٰ کے لیے محبت :

حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 صفحہ نمبر 247حدیث نمبر:380 )

(4) اچھی باتوں کا بیان :

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028 )

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


نمبر: 0324651688

اسلام انسانیت کو اخوت، محبت اور خیرخواہی کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بارہا بغض، کینہ اور عداوت سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ یہ برائیاں دلوں کو سیاہ اور تعلقات کو برباد کر دیتی ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بغض و کینہ کی سخت مذمت اور ان کے مضر اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں پانچ احادیث بمع ترجمہ اور وضاحت درج ہیں:

(1) حدیث: عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ، هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ (جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2510)

ترجمہ: حضرت زبیر بن عوام سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم پر پچھلی امتوں کی بیماری چڑھ آئی ہے: حسد اور بغض۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ دین کو مونڈ ڈالتی ہے۔"

بغض و کینہ انسان کے دین کو کمزور اور برباد کر دیتا ہے، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔

(2) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2563)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، نہ بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔

وضاحت: اسلام باہمی محبت اور اخوت چاہتا ہے، بغض و کینہ امت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔

(3) حدیث: عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا، وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6077)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ جب وہ دونوں ملیں تو ایک ادھر اور دوسرا ادھر منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔

وضاحت: بغض و کینہ کی بنیاد پر قطع تعلقی سخت ناپسندیدہ ہے، اسلام صلح اور تعلق جوڑنے پر زور دیتا ہے۔

(4) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2565)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، سوائے اس کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف کینہ ہو۔ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں۔"

وضاحت: بغض و کینہ مغفرت میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس لیے دل کو پاک رکھنا ضروری ہے۔

(5) حدیث: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنْ مَاتَا دَخَلَا النَّارَ (سنن أبي داود، کتاب الأدب، حدیث: 4915)

ترجمہ: حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ اگر وہ اسی حالت میں مر گئے تو دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔"

کینہ پر مبنی قطع تعلقی آخرت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کی دین و دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ دلوں کی سختی، تعلقات کی خرابی اور اللہ کی مغفرت سے محرومی کا باعث ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو بغض، کینہ اور حسد سے پاک رکھے اور صلح، محبت اور بھائی چارے کو اپنائے۔


Phone : 0320 1056286

اسلام ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت، اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ یہ دین انسانوں کے دلوں کو جوڑنے اور نفرت و بغض کو مٹانے آیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد، بغض، اور کینہ پایا جاتا ہے جو امتِ مسلمہ کی کمزوری کا سبب بن چکا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بیماری کی سخت مذمت کی گئی ہے کیونکہ یہ دلوں کو سیاہ اور اعمال کو ضائع کرنے والی صفت ہے۔

بغض و كینہ کی حقیقت: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف نفرت یا دشمنی رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں چھپائے رکھنا ہے۔ یہ ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو کھا جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔ (سورۃ الحجر: 47)

یہ آیت جنتیوں کے دلوں کے بارے میں ہے کہ وہاں کسی کے دل میں دوسرے کے لیے بغض یا کینہ نہیں ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس دل میں بغض ہو، وہ جنت کے قابل نہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ۔ (صحیح بخاری: 6065)

ایک اور حدیث میں فرمایا: کینہ رکھنے سے بچو، کیونکہ یہ بھلائیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (ابو داود: 4903)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔

نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: "ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ (صحیح مسلم: 2560)

یہ حدیث مسلمانوں کے درمیان محبت اور اتحاد کی بنیاد ہے۔

ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دل کا صاف اور زبان کا سچا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! صاف دل والا کون ہے؟ فرمایا: "وہ شخص جس کے دل میں نہ دھوکہ، نہ کینہ، نہ بغض اور نہ حسد ہو۔ (ابن ماجہ: 4216)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ "فلاں شخص آپ سے بغض رکھتا ہے۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا: "یہ اس کا عمل ہے، میرا نہیں۔ میں تو اس کے لیے بھی خیر چاہتا ہوں۔"

یہی رویہ اسلام سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے دشمنی کرے تب بھی تم دل کو صاف رکھو۔ بغض و کینہ رکھنے والا انسان خود اپنے دل کو اذیت دیتا ہے۔ اسلام ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے، اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے دل کو کینے سے پاک کر لے تو امتِ مسلمہ میں محبت، اتحاد اور امن قائم ہو جائے۔

بغض و کینہ ایمان کی کمزوری اور دل کی تاریکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف رکھیں، بھائی چارہ قائم کریں، اور ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچائے۔ آمین 


فن نمبر 03316551905

اسلام ایک ایسا دین ہے جو دلوں کی صفائی، اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مسلمان کے دل میں بغض و کینہ نہ ہو، کیونکہ یہ انسان کو گناہوں کی طرف مائل کرتا ہے اور خیر سے محروم کر دیتا ہے۔ کینہ رکھنے والا نہ دنیا میں سکون پاتا ہے اور نہ ہی آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

حدیث (1) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6064)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ نہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگو، نہ تجسس کرو، نہ حسد کرو، نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔"

اس حدیث میں واضح طور پر بغض و کینہ سے منع کیا گیا اور اخوت و بھائی چارے کی تاکید کی گئی ہے۔

حدیث (2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2560)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: "آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔"

اس حدیث میں بغض و کینہ کی حرمت اور آپسی تعلقات کی درستگی پر زور دیا گیا ہے۔

حدیث (4) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأُمُورِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ(سنن الترمذی، کتاب الزھد، حدیث: 2658)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں کہ مسلمان کے دل میں ان کے ساتھ کینہ نہیں رہ سکتا: عمل کو اللہ کے لیے خالص رکھنا، حکمرانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہنا۔"

اخلاص اور خیرخواہی دل کو صاف رکھتے ہیں اور بغض و کینہ کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔

حدیث (4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِسِلَاحٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث: 7072)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار نہ اٹھائے، ہو سکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ کو بہکا دے اور وہ آگ میں جا گرے۔"

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغض و کینہ دل کی بیماری ہے جو انسان کی نیکیوں کو ضائع کر دیتی ہے، تعلقات میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہے، اور یہ بیماری انسان کو اللہ کی مغفرت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو صاف رکھے، دوسروں کے لیے خیرخواہی کرے اور محبت و اخوت کے راستے پر گامزن رہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اللہ عزوجل کے  آخری نبی محمد عربی ﷺ نے جس طرح ہمیں ظاہری یعنی نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ ان تمام کے احکام سکھائے اسی طرح باطنی احکام بھی سکھائے جن کے بارے میں سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے جیسے کہ ریاکاری حسد تکبر وغیرہ اور انہی باطنی احکامات میں سے بغض و کینہ بھی ہے بغض و کینہ کے جیسے اخروی نقصانات ہیں ویسے ہی دنیاوی نقصانات بھی بہت ہیں اس کی وجہ سے آپس میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور انسان انسان سے دور ہو جاتے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے بغض و کینہ کی تعریف اور حکم ملاحظہ کیجئے :

بغض و کینہ کی تعریف:‎‎بغض وکینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

بغض و کینہ کا حکم :کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔

آئیے چند حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے جن میں حضور ﷺ نے بغض و کینہ کی مذمت فرمائی ہے:

(1) بھائی بھائی ہو جاؤ:

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔(بخاری ،ج4،ح 6066،ص117)

(2)بغض و کینہ سے باز رہنا :

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّتَیْنِ یَوْمَ الاثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیسِ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ فَیُقَالُ اتْرُکُوْا ہَذَیْنِ حَتَّی یَفِیْءَا‎‎

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(انوار الحدیث ،بغض وحسد ، حدیث 1)

(‎‎3)بغض دین مونڈ دیتا ہے :

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج2 ، حدیث:5039 )

(4) کینہ والا مغفرت سے محروم :

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ،ص54)

(‎‎5) کینہ والے کی گواہی قبول نہیں :

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلودٍ حَدًّا، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ عَلٰى أَخِيْهِ، وَلَا ظَنِيْنٍ فِيْ وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی۔

شرح حدیث : بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج5 ، حدیث نمبر:3781 )

آج کل ہمارے معاشرے میں یہ بیماری بہت عام ہے یہ ناجائز و گناہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس سے بچیں اور اس کی مذمت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان کا مطالعہ کر کے اپنی زندگی میں بغض و کینہ سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


فون نمبر:03146177942

بغض و کینہ ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے دل کو زنگ آلود کر دیتی ہے اور محبت و اخوت کے رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو سب سے پہلے انسان کے اپنے دل کو جلاتی ہے اور پھر دوسروں تک نفرت کی لہر پھیلاتی ہے۔ دینِ اسلام نے محبت عفو و درگزر اور خیر خواہی کی تعلیم دی ہے۔ جبکہ بغض و کینہ کو سختی سے منع فرمایا ہے۔ جو دل کینہ سے پاک ہوتا ہے وہ سکون ایمان اور اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے دل کو نفرتوں سے خالی اور محبت و ایثار سے لبریز رکھے۔

آئیے بغض و کینہ کی مذمت پر کچھ احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) انصار سے بغض کی مذمت :

حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(2) آپس میں بغض نہ رکھو:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ (موطا امام مالك روایۃ ابن القاسم/حدیث: 602)

(3) حسد نہ کرو:

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ آپس میں بغض نہ رکھو قطع تعلقی نہ کرو۔ (شرح اربعین نوویہ(اردو) حدیث نمبر:35)

بغض و کینہ ایسی روحانی بیماری ہے جو انسان کے دل سے سکون چھین لیتی ہے اور محبت اخوت اور بھائی چارے کے رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ جس دل میں کینہ و عداوت بس جائے وہاں خیر و بھلائی کے جذبات پنپ نہیں سکتے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک دوسرے سے محبت عفو و درگزر اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دلوں سے بغض و کینہ کو نکال کر اخلاص محبت اور خیرخواہی کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہمارا دل دوسروں کے لیے پاک اور صاف ہو۔

اللہ پاک ہمیں بغض اور کینہ جیسی بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر: 03056247064

دین اسلام اپنے ماننے والوں کو عبادت گزار بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بہترین اور باکردار افراد بنانے کا بھی زور دیتا ہے ایک بہترین انسان جس طرح اعلی اخلاق سے مزین ہوتا ہے اسی طرح باطنی خباثتوں سے بھی بچتا ہے انہی میں سے ایک خباثت بغض و کینہ بھی ہے۔ احادیث کریمہ میں بغض و کینہ کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔

آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :

(1) دین ختم کر دیتا ہے: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا ( یعنی تباہ کر دیتا ہے ) (کنز العمال، كتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الجزء: 3، ج 2، ص 28 ، حدیث: 5482)

(2) کینہ پروری دوزخ میں لے جائیں گے:سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ (المعجم الأوسط، باب العين ، من اسمہ عبد الرحمن3/301 الحديث 4653)

(3)عداوت نہ رکھو : مدینے کے سلطان ، رحمت عالمیان ، سرور ذیشان ﷺ نے فرمایا: لَا تُحَاسِدُوا وَلَا تُبَاغِضُوا وَلَا تُدَابِرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا یعنی آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض و عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔ (صحيح البخاري كتاب الادب ، 4 / 117 الحديث : 6066)

(4)عرب کی محبت ایمان ہے : محبوب رب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: عرب کی محبت ایمان ہے جس نے عرب سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ ( المُعْجَمُ الَّا وَسَط 20/66 الحديث 2537)

حضرت سید نا فقیہ ابواللیث سمرقندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں کی جاتی : (پہلا) حرام کھانے والا (دوسرا) کثرت سے غیبت کرنے والا اور ( تیسرا) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد موجود ہو ۔ ( درة الناصحين ص 70)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر 03014457851

انسان دل میں کسی کو بلا وجہ شرعی بوجھ جانے اس سے دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے کینہ کہلاتا ہے۔

اس کے اسباب یہ ہیں: غصہ، بدگمانی جوا، نعمتوں کی کثرت، لڑائی جھگڑے وغیرہ۔

آیئے ہم بھی اس کی مذمّت پر احادیث پڑھتے ہیں :

(1) ایمان کی علامت : سید عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے ۔ (صحیح البخاری کتاب الایمان باب علامت الایمان حب الانصار حدیث نمبر 17ص3)

(2) اللہ کی ناراضگی کا سبب : رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: انصار سے محبت صرف مومن ہی کرتا ہے اور ان سے بغض منافق ہی رکھتا ہے اور جوان سے محبت کرے اللہ عزوجل اس سے محبت فرمائے گا اور جو ان سے بغض رکھے اللہ عز و جل اسے نا پسند فرمائے گا ۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2ص842 مترجم مدینہ العلمیہ)

(3) بغض سے منع کرنا: مدینے کے سلطان ، رحمتِ عالمیان، سرور ذیشان ﷺ نے فرمایا: لَا تُحَاسِدُوا وَلَا تُبَاغِضُوا وَلَا تُدَابِرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا یعنی آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض وعداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔ (صحيح البخارى، كتاب الادب ، جلد 4 ص 117 الحديث : 6066)

(4)کون انصار سے بغض نہیں رکھتا : حضور نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے جو اللہ عزول اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا ۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2 ص 842 مترجم المدینۃ العلمیہ)

(5) مسلمان کے دل میں نہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ( معجم الاوسط ج 3 ص 301 حدیث 4653 )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


فون نمبر ۔03204880672

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ بغض و کینہ کی مذمت کے متعلق چند احادیث ملاحظہ کیجیے:

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ أَحَبَّنِيْ وَمَنْ أَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ۔

یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دنیوی امور میں صاف دل ہو،سینہ کینہ سے پاک ہو،تب اس میں انوار مدینہ آئیں گے۔دھندلا آئینہ اور میلا دل قابل عزت نہیں مگر کفار سے عداوت اصل ایمان ہے۔رب فرماتا ہے: "لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِ اللہ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہ وَ رَسُوۡلَہٗ " ایسے ہی فاسق مسلمانوں کی بدکاری سے ناراض ہونا عبادت ہے۔لہذا حدیث صاف ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

یعنی جیسے اعمال میں سنتوں کی پابندی باعث ثواب ہے،ایسے ہی دل صاف رکھنا،اچھے اخلاق ہونا بھی سنت ہے۔جس سے قرب رسول اللہ حاصل ہوگا۔افسوس کہ اکثر لوگ یہاں پھسل جاتے ہیں۔اتباع سنت کا دعویٰ ہوتا ہے مگر سینے کینوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اللہ اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

عَنْ عَوفِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خِيَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ وشِرَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُوْنَهُمْ وَيُبْغِضُوْنَكُمْ وَتَلعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُوْنَكُمْ قَالَ: قُلْنَا:يَارَسُولَ اللهِ اَفَلَا نُنَابِذُهُمْ قَالَ:لَا مَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ لَامَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ(فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:661)

حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم ﷺ کو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ ﷺ !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ (رَوَاهُ مُسْلِم)

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064 حدیث:6541(

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچائے ۔آمین


واٹس ایپ نمبر: 03363361817

پیارے اسلامی بھائیو! بغض و کینہ کے کئی دنیاوی و اخروی نقصانات ہیں۔ دنیاوی طور پر دیکھا جائے تو اس سے رشتے اور دوستیاں برباد ہوتی ہیں اور انسان ہر وقت منفی سوچ میں مبتلا رہتا ہے اور سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ بات ہے کہ منفی سوچ انسان کی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اخروی طور پر اگر نقصانات کی بات کریں تو سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اللہ اور اس کا محبوب ﷺ ناراض ہوتے ہیں۔ ذیل میں ہم کچھ احادیث ذکر کریں گے جس میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی اور اس سے منع کیا گیا ہے۔

بغض رکھنے والے کی مغفرت نہیں ہوتی: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں، پیر اور جمعرات کو، پس ہر بندے کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندے کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے، اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں" (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب النھی عن الشحناء والتھاجر، حدیث 2565)

دین مونڈنے والی بیماری:حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:اگلی اُمتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے" ("مسند" امام احمد بن حنبل، مسند زبیر بن العوام، حدیث 1412)

دیکھا آپ نے کہ کس طرح حسد و بغض ہمارے دین کے لیے بھی خطرناک ہے۔

بھائی بھائی ہو کر رہو: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو۔ (صحیح بُخاری، کتاب الادب، باب یاایھا الذین آمنوا اجتنبو الخ حدیث 6066)

بدگمانی، حسد، بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہٰذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مراۃ المناجیح، جلد 6)

کامل ایمان والا: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اللہ کے لئے محبت کی، اور اللہ کے لیے بغض رکھا، اور اللہ کے لیے عطا کیا، اور اللہ کے لیے منع کیا، تو تحقیق اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا" (سنن ابی داؤد ،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ ، حدیث 4681)

اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ اللہ کے لیے کسی سے بغض رکھنا کامل ایمان کی نشانی ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول اور صحابہ و اہل بیت اور اولیاء اللہ کے دشمنوں سے بغض رکھنا چاہیے اور ان سے بچنا چاہیے۔ اپنی ذات کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھنا چاہیے۔

اولیاء اللہ سے بغض رکھنے والے کے لیے وعید: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا: "جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اُسے میں نے لڑائی کا اعلان دیدیا۔ (بُخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث 6502)

ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کے بغض و کینہ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کو ناپسند ہے۔ اللہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض و کینہ رکھنے سے بچائے اور اپنی رضا پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین