انسانی معاشرے کی بنیاد محبت، بھائی چارے اور باہمی خیرخواہی پر قائم ہے جہاں دلوں میں محبت ہو وہاں ‏امن و سکون کی فضا قائم رہتی ہے، اور جہاں بغض و کینہ کا زہر پھیل جائے، وہاں نفرت، حسد اور ‏دشمنی جنم لیتی ہے۔ بغض و کینہ وہ باطنی بیماری ہے جو نہ صرف فرد کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے بلکہ ‏پورے معاشرے کو انتشار اور فساد میں مبتلا کر دیتی ہے اسی لئے اسلام نے دلوں کی صفائی اور باہمی محبت ‏کو ایمان کا جز قرار دیا ہے ۔ ‏

کینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کے خلاف بغض رکھے، اس سے غیر شرعی دشمنی اور نفرت ‏کرے، اور یہ کیفیت اس کے دل میں ہمیشہ برقرار رہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد ‏والحسد، القول فی معنی الحقد، ج 3، ص 223)‏

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس باطنی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(91) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

یہ آیت اس ‏حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بغض و کینہ اور دشمنی وہ شیطانی ہتھیار ہیں جن سے دلوں میں نفرت اور ‏فاصلے پیدا ہوتے ہیں، اور انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کو اللہ عز وجل کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ تو اللہ ‏تعالیٰ آپس میں بغض رکھنے والوں اور قطعِ رحمی کرنے والوں کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ‏ہے۔(المعجم الکبیر، حدیث: 409، ج 1، ص 167)

حضور ﷺ نے فرمایا:‏"پیر اور جمعرات کے ‏دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پس ان دونوں دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر ‏دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، مگر دو ایسے مسلمان بھائی جن کے درمیان بغض و عداوت ‏ہو، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔"(سنن ‏ابی داود، کتاب الأدب، باب ہجرت الرجل اخاہ، حدیث: 4916، ص 1583) ‏

بغض و کینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلاوجہ شرعی اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا ناجائز اور گناہ ہے۔سیدنا ‏عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حق بات کہنے والے یا عدل و انصاف کرنے والے شخص سے بغض ‏و کینہ رکھنا حرام ہے۔ (الحدیقۃ الندیہ ، ج 1، ص 629‏)

بغض و کینہ رکھنے والے کے بارے میں ایک عبرتناک واقعہ:حضور ﷺ کے چچا ‏حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض ‏کرنے لگے ہم حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص بھی تھا۔ جب ‏ہم ذاتُ الصفاح کے مقام پر پہنچے تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اس کے غسل و کفن کا انتظام کیا اور قبر کھود ‏کر دفن کرنے لگے تو اچانک دیکھا کہ قبر سیاہ سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ ‏قبر کھودنے کی کوشش کی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی سانپوں سے بھر گئی بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر ‏آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ واقعہ سن کر حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا‏:“یہ ‏اس کینہ کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے دل میں مسلمانوں کے بارے میں رکھا کرتا تھا۔ جاؤ! اسے وہیں دفن کر ‏دو۔‏(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب القبور، ج 2، ص 838)‏

ايمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے: وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(10) ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

حضور ﷺنے فرمایا : بغض رکھنے والوں سے بچو،کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔(کنز ‏العمال ،کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال،جزء3، 2/28، رقم الحدیث 5486)‏

اللہ تعالیٰ ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


واٹس ایپ نمبر : 03003498134

بُغض کا مطلب ہے کسی کے لیے دل میں نفرت یا برائی چاہنا، جبکہ کینہ یہ ہے کہ کسی کی بات یا زیادتی کو دل میں چھپا کر نفرت برقرار رکھنا۔

یہ دونوں صفات انسان کے دل کو سخت اور بے سکون بنا دیتی ہیں، اور محبت، خلوص اور ایمان کے نور کو بجھا دیتی ہیں۔ ایسے شخص کے چہرے پر بھی سکون نہیں رہتا کیونکہ دل کے اندر نفرت کا زہر گردش کر رہا ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دل کو پاک رکھو، معاف کرنا سیکھو، اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہو یہی ایمان کی اصل روح ہے۔

انسانی زندگی کا سب سے حسین پہلو وہ جذبے ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور روحوں میں سکون پیدا کرتے ہیں۔ محبت، اخوت اور ایثار وہ مقدس خوبیاں ہیں جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتی ہیں اور یہی اوصاف کسی معاشرے کو جنت کا نمونہ بنا دیتے ہیں، جہاں ہر دل میں خیرخواہی، ہر نگاہ میں نرمی، اور ہر رشتے میں خلوص و اعتماد پایا جاتا ہے۔

لیکن جب ان پاکیزہ جذبات کی جگہ دلوں میں بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسے زہریلے احساسات جنم لیتے ہیں، تو انسان کا باطن تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ محبت کے چراغ بجھ جاتے ہیں، رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، اور معاشرہ نفرت و بے سکونی کی بھٹّی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ دل کا یہ میل نہ صرف انسان کو ربّ کی رحمت سے دُور کر دیتا ہے

آئیے اب ہم رسولِ اکرم ﷺ کے چند مبارک ارشادات پر غور کرتے ہیں جن میں بُغض و کینہ کی مذمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہم اپنے دلوں کو حسد، نفرت اور کینہ سے پاک کرکے اللہ اور اس کے بندوں کے قریب ہو سکیں۔

عداوت رکھنے والے کی مغفرت رُک جاتی ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو، تو (ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر و الصلة و الآداب، حدیث 6546)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دلوں میں دشمنی اور کینہ رکھنے کی وجہ سے بندہ مغفرت سے محروم رہ جاتا ہے، چاہے وہ بظاہر نیک اعمال ہی کیوں نہ کرتا ہو۔

کینہ رکھنے والے کی گواہی معتبر نہیں ہوتی : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد و عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیہ، حدیث 3600)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والا شخص عدالتِ الٰہی میں معتبر نہیں رہتا۔

نصفِ شعبان کی رات میں کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے شرک کرنے والے، بغض و عداوت اور کینہ رکھنے والے کے۔(سننِ ابنِ ماجہ، کتاب اقامت الصلاۃ والسنۃ، حدیث 1390)

یعنی کینہ رکھنے والا شخص اللہ کی رحمت سے محروم رہ جاتا ہے، گویا یہ صفت انسان اور ربّ کے درمیان حائل یعنی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

بغض و کینہ نیکیوں کو ختم کردینے والی بیماریں ہیں : چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سابقہ امتوں کی بیماری تمہاری طرف منتقل ہو گئی ہے حسد اور بغض و عداوت، اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ بال مونڈتی ہیں بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب حدیث 5039)

یعنی جیسے استرا بال صاف کر دیتا ہے، اسی طرح بغض و حسد ایمان اور نیکیوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ یہ صفات انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ باطن کو برباد کرتی ہیں۔

چونکہ بغض و کینہ وہ زہر ہے جو انسان کے دل، ایمان اور معاشرے تینوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دل سے کینہ، حسد اور نفرت کو نکال کر خلوص، محبت اور خیرخواہی سے اپنے دل کو روشن کرے، کیونکہ اللہ اُن دلوں کو پسند کرتا ہے جو صاف، نرم اور محبت سے بھرے ہوں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے بغض، کینہ اور حسد کو نکال دے، اور ہمیں محبت، خلوص اور خیرخواہی سے بھرپور دل عطا فرمائے اور ہمیں اُن بندوں میں شامل فرمائے کہ جو دوسروں کے لیے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آمین۔


فون 03262991743

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ بغض و کینہ کی مذمت احادیث کی روشنی میں پڑھیے:

(1): اسی حال میں چھوڑ دیتا ہے: اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘‘۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ54)

(2): یہ میری سنت ہے: حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ،حدیث نمبر:175)

(3): منافق ہی بعض رکھے گا: حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رب اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(4): بھائی بھائی ہوجاؤ: حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(5): بغض نہ رکھنا: حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا: یارسول الله ﷺ میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں! آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی، فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ انسانی اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دین اسلام محبت، اخوت، رواداری، اور دلوں کی صفائی کا درس دیتا ہے، جبکہ بغض (دشمنی) اور کینہ (دل میں نفرت یا حسد رکھنے) کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بغض و کینہ کو نہ صرف گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی  قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں گے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف دشمنی اور نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں دبائے رکھنا اور اس کا بدلہ لینے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو نہ صرف روحانی طور پر تباہ کرتیں ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتی ہیں۔

احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت:

(1) ایمان کی نفی: ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی نصیحت کی ہے چنانچہ فرمایا : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏‏‏‏‏‏لَاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تم جنت میں اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم ( کامل ) مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ " (ابن ماجہ ، 4/200 ، حدیث : 3692)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل آپس کی محبت کے بغیر ممکن نہیں اور بغض و کینہ محبت کی ضد ہیں۔

(2) اعمال کی قبولیت کا انکار: حضرت سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجئے۔ یہاں تک کہ صلح کر لیں۔‘‘(صحیح مسلم 2/317)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والوں کے اعمال بھی لٹکے رہتے ہیں اور مغفرت نہیں ہوتی جب تک وہ آپس میں صلح نہ کریں۔

(3) دل کی صفائی کی ترغیب: "حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، نور والے مصطفےٰ ﷺ کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا : اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ یا رسولَ اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا : کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ ، صُدُوقُ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان والا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ ﷺ ! صُدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا) کسے کہتے ہیں ، یہ تو ہم جانتے ہیں ، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا : وہ متقی شخص جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو ، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو ، نہ کینہ ہو ، نہ ہی حسد ہو۔" (ابنِ ماجہ ، کتابُ الزُّہد ، جلد : 4 ، صفحہ : 475 ، حدیث : 4216)

یہ حدیث ایک مؤمن کے اعلیٰ اخلاق کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ بغض و کینہ سے پاک دل رکھتا ہے۔

بغض و کینہ کے نقصانات:

1 روحانی نقصان: دل میں بغض و کینہ رکھنے والا انسان ہمیشہ بے سکون رہتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔

2 معاشرتی فساد: بغض و کینہ معاشرتی رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھائی بھائی سے، دوست دوست سے دور ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

3 اعمال کی بربادی: جیسا کہ حدیث میں آیا کہ بغض رکھنے والے کے اعمال معلق ہو جاتے ہیں اور ان کی قبولیت رُک جاتی ہے، جو کہ ایک مؤمن کے لیے بڑا نقصان ہے۔

4 نفسیاتی اثرات: مسلسل بغض رکھنے سے انسان کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خوشی محسوس نہیں کر پاتا، اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔

بغض و کینہ سے بچنے کے طریقے:

1 معاف کرنے کی عادت: اس بات کو یاد کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف فرمانے والا ہے، اور اس نے ہمیں بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

2 دعاؤں میں دل کی صفائی کی درخواست: نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے پاک فرما۔ الخ"(مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2501)

3 سلام کو عام کرنا: سلام آپسی محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی دوری کو ختم کرتا ہے۔

4 حسد اور کینہ کے خلاف جہاد: یہ مجاہدہ (نفس کے خلاف جنگ) کرنا ضروری ہے، اور قرآن کی تلاوت، ذکر، اور صحبت صالحین سے اس میں مدد ملتی ہے۔

اسلام ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو محبت، رواداری، اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ بغض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانیت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں، اور محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک کر کے ان اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں جن کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


کینہ وہ مہلک باطنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دنیا و آخِرت کا ‏خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے مضر ( نقصان دہ) اثرات ‏سے اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی نہیں بچ پاتے اور ‏یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سُکون برباد کر دیتی ہے۔ ‏خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں، ایک ‏دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں، ذلیل و رُسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی ‏کوشش کی جاتی ہے، اپنے مسلمان ‏بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے ‏خلاف سازشیں کی جاتی ہیں ‏جس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مِثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

کینہ پَرور کے شب و روز رَنج اور غم میں گُزرتے ہیں اور وہ پست ہمّت ہو جاتا ہے ۔ دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے ‏اور ‏خود بھی ترقّی سے محروم رہتا ہے۔ امام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اَقَلُّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا رَاحَةً اَلْحَسُودُ وَالْحَقُودُ ‏دنیا میں کینہ ‏پرور اور حاسدین سب سے کم سُکون پاتے ہیں ۔‏( بغض و کینہ ، ص15)‏

‏ بغض و کینہ کی مذمّت کے متعلّق 3 احادیثِ کریمہ پڑھیے : ‏

‏(1) مغفرت سے محرومی:‏ اللہ کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: اللہ پاک ‏‏(ماہ) شعبان کی پندرہویں رات اپنے ‏بندوں پر ( اپنی قدرت کے شایان شان ) تجلّی فرماتا ہے ، مغفرت چاہنے والوں کی ‏مغفرت فرماتا ہے اور رَحم طلب کرنے والوں پر ‏رَحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‏(شعب الايمان،3/382، حدیث: 3835)‏

‏(2) دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ نہ ہو :حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ ‏سے ‏ارشاد فرمایا: یَا بُنَیَّ اِنْ قَدَرْتَ اَنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِاَحَدٍ فَافْعَلْ یعنی اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‏کہ ‏تمہاری صبح و شام ایسی حالت میں ہو کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ نہ ہو تو ایسا ہی کیا کرو ۔‏( ترمذی، 4/309، حدیث : ‏‏2687 )‏

‏(3) کینہ پروری دوزخ میں لے جائے گی ‏: جناب رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا ‏يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ ‏مُسْلِم ٍ یعنی بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنّم میں ہیں ، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو ‏سکتے۔‏ ( معجم اوسط، 3/301، حدیث : 4653 )‏

فقیہ ابواللّیث سمرقندی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دُعا قبول نہیں کی ‏جاتی (1) حرام کھانے والا ‏‏(2) کثرت سے غیبت کرنے والا اور (3) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے ‏مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد موجود ہو۔ ‏( بغض و کینہ ، ‏ص 12)‏

معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کینہ، بغض، چغل خوری اور حسد میں مبتلا ہو تو وہ متّقی و پرہیز گار کہلانے کا حقدار نہیں ، بظاہر ‏وہ ‏کیسا ہی نیک صورت و نیک سیرت ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہر و باطن میں نیک بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ ‏ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏