محمد
شاہ زیب سلیم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
اللہ
عزوجل کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے جس طرح ہمیں ظاہری یعنی نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ ان تمام کے احکام
سکھائے اسی طرح باطنی احکام بھی سکھائے جن کے بارے میں سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے
جیسے کہ ریاکاری حسد تکبر وغیرہ اور انہی باطنی احکامات میں سے بغض و کینہ بھی ہے
بغض و کینہ کے جیسے اخروی نقصانات ہیں ویسے ہی دنیاوی نقصانات بھی بہت ہیں اس کی
وجہ سے آپس میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور انسان انسان سے دور ہو جاتے ہیں۔
آئیے سب سے پہلے بغض و کینہ کی تعریف اور حکم
ملاحظہ کیجئے :
بغض و کینہ کی تعریف:بغض وکینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی
کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ
باقی رہے۔
بغض و کینہ
کا حکم :کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے
دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔
آئیے
چند حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے جن میں حضور ﷺ نے بغض و کینہ کی مذمت فرمائی ہے:
(1)
بھائی بھائی ہو جاؤ:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ
وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا
تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا
تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ
إِخْوَانًا
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے
ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ
ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں
خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے
سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔(بخاری
،ج4،ح 6066،ص117)
(2)بغض
و کینہ سے باز رہنا :
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ
مَرَّتَیْنِ یَوْمَ الاثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیسِ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ
مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ فَیُقَالُ
اتْرُکُوْا ہَذَیْنِ حَتَّی یَفِیْءَا
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے
اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی
مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس
کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو
نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(انوار
الحدیث ،بغض وحسد ، حدیث 1)
(3)بغض
دین مونڈ دیتا ہے :
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ
روایت
ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری
سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال
مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج2 ، حدیث:5039 )
(4)
کینہ والا مغفرت سے محروم :
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ
رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ
النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ
مُشَاھِنٍ
روایت
ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے
کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ،ص54)
(5)
کینہ والے کی گواہی قبول نہیں :
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:
قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجُوْزُ
شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلودٍ حَدًّا، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ
عَلٰى أَخِيْهِ، وَلَا ظَنِيْنٍ فِيْ وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ
مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ
روایت
ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی اور
نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب
میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی۔
شرح حدیث : بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی
بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں
اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے
کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج5 ، حدیث نمبر:3781 )
آج کل
ہمارے معاشرے میں یہ بیماری بہت عام ہے یہ ناجائز و گناہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ
اس سے بچیں اور اس کی مذمت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان کا مطالعہ کر کے اپنی
زندگی میں بغض و کینہ سے بچنے کی کوشش کریں۔
اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین
Dawateislami