نعمان
مسعود ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزار
حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
Phone : 0320 1056286
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت، اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ یہ دین انسانوں کے
دلوں کو جوڑنے اور نفرت و بغض کو مٹانے آیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں
مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد، بغض، اور کینہ پایا جاتا ہے جو امتِ
مسلمہ کی کمزوری کا سبب بن چکا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بیماری کی سخت مذمت کی گئی
ہے کیونکہ یہ دلوں کو سیاہ اور اعمال کو ضائع کرنے والی صفت ہے۔
بغض و كینہ
کی حقیقت: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے
خلاف نفرت یا دشمنی رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں چھپائے رکھنا ہے۔ یہ ایک ایسی
روحانی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو کھا جاتی ہے۔
اللہ
تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ
صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)اور ہم
نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی ہیں تختوں
پر روبرو بیٹھے۔ (سورۃ الحجر: 47)
یہ آیت
جنتیوں کے دلوں کے بارے میں ہے کہ وہاں کسی کے دل میں دوسرے کے لیے بغض یا کینہ نہیں
ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس دل میں بغض ہو، وہ جنت کے قابل نہیں۔
احادیثِ
نبوی ﷺ کی روشنی میں:
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم آپس میں بغض
نہ رکھو، حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی
بھائی بن جاؤ۔ (صحیح بخاری: 6065)
ایک
اور حدیث میں فرمایا: کینہ رکھنے سے بچو،
کیونکہ یہ بھلائیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (ابو داود: 4903)
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: "ایک دوسرے سے قطع
تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، اور اے اللہ
کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ (صحیح مسلم: 2560)
یہ حدیث
مسلمانوں کے درمیان محبت اور اتحاد کی بنیاد ہے۔
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دل کا صاف اور زبان
کا سچا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! صاف دل والا کون ہے؟ فرمایا:
"وہ شخص جس کے دل میں نہ دھوکہ، نہ کینہ، نہ بغض اور نہ حسد ہو۔ (ابن ماجہ:
4216)
حضرت
علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ "فلاں شخص آپ سے بغض رکھتا
ہے۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا: "یہ اس کا عمل ہے، میرا
نہیں۔ میں تو اس کے لیے بھی خیر چاہتا ہوں۔"
یہی رویہ
اسلام سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے دشمنی کرے تب بھی تم دل کو صاف رکھو۔ بغض و کینہ
رکھنے والا انسان خود اپنے دل کو اذیت دیتا ہے۔ اسلام ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے،
اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے دل کو کینے
سے پاک کر لے تو امتِ مسلمہ میں محبت، اتحاد اور امن قائم ہو جائے۔
بغض و
کینہ ایمان کی کمزوری اور دل کی تاریکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف رکھیں، بھائی چارہ قائم
کریں، اور ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔
اللہ پاک ہمیں بغض
و کینہ سے بچائے۔ آمین
Dawateislami