اللہ قادر مطلق عزوجل نے اپنی حکمت کاملہ سے اس جہاں دید آراں میں نوع انسانی کو مختلف طبیعتوں میں پیدا فرمایا، ہر طبیعت میں دوسری سے جدا رنگ بسایا، اور دیگر مخلوقات میں اسے عقل عطا کر کے اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا،چونکہ صرف عقل، نور وحی کے بغیر ہدایت کے لیے کافی نہ تھی تو اپنے چنے ہوئے بندوں کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان تک اللہ تعالی کی آیات و احکامات پہنچائیں،اور ان کی جانوں کو بری صفات اور مذموم اخلاق کی پستیوں سے نکال کر پاکیزگی اور ستھرائی کی اعلی بلندیوں تک پہنچائیں۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! بغض و کینہ بھی انہیں بری صفات کی زنجیر کی ایک ایسی کڑی ہے کہ صوفیا کے نزدیک ہر برائی کی جڑ ہے ( دیکھیے روضۃ العقلاء ونزنۃ الفضلاء ص١١٩) اور قرآن میں ہمیں اپنے دلوں کو اس مہلک بیماری سے پاک رکھنے کی تعلیم ہے:

وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

نیز اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ﷺ نے اس کی نہایت مذمت فرمائی۔ آئیے ان کی فرامین مبین کے نور سے اپنے دلوں کے لیے اس مرض سے شفا کا سامان کیجیے:

کینہ پروری جہنم میں: نبی رحمت ، شفیع امت، مالک جنت، قاسم نعمت ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:"بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے"(المعجم الاوسط ، جلد 3، صفحہ 301، حدیث نمبر 4653، دار احياء تراث بيروت)

دین کی بیخ کنی:

دافع رنج و ملال، شہنشاہ خوش خصال، صاحب جود و نوال، ﷺ نے ارشاد فرمایا:"پہلی امتوں کی بیماری بغض اور حسد تم میں بھی سرایت کر جائے گی یہ اکھیڑ دینے والی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو اکھیڑ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کی بیخ کنی کر دیتی ہے"(شعب الايمان للبیہقی جلد6، صفحہ 424، حدیث نمبر 8747، دارالباز مکۃ المکرمہ)

نیکیوں کو کھا جانا:

محبوب رب العزت، محسن انسانیت،صاحب جود و سخاوت ﷺ نے ارشاد فرمایا:"بے شک کینہ اور حسد یہ دونوں نیکیوں کو ایسے کھا جاتے ہیں جیسے آگ لکڑیوں کو کھاتی ہے"(تنبیہ الغافلین، صفحہ 141، مکتبۃ العلم الحدیث، المطبعہ العالمیہ)

مغفرت سے محرومی:

مختلف احادیث میں آیا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والے شخص کا دامن عظمت و شرف والی راتوں میں بھی مغفرت سےمحروم ہی رہتا ہے جن کا بیان درج ذیل ہے :

15 شعبان کی شب محرومی:

مخزن جود و سخاوت، پیکر عظمت و شرافت ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:"اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو مشرک اور بغض و کینہ رکھنے والے کے علاوہ تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے"(المعجم الکبیر جلد 20 صفحہ 109 دار احياء التراث بيروت)

پیر اور جمعرات کے دن محرومی:

دو جہاں کے تاجور، سلطان بحر و بر، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:"ہر ہفتہ کے دوران پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں "(صحیح مسلم حدیث 6547، صفحہ 1127، دارالسلام ریاض)

جمعرات اور جمعہ کے دن محرومی:

خاتم المرسلین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:"جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپس میں صلح کر لینے تک موخر کر دو"(جامع الاحادیث، جلد 3، صفحہ 12، حدیث نمبر 6975)

بغض و کینہ ایسی مہلک بیماری ہے کہ جو انسان کے دامن کو نہایت ہی عظمت اور برکت والے دنوں مثلا جمعہ، جمعرات، پیر شریف حتی کہ 15 شعبان کی شب بھی مغفرت سے محروم رکھتی ہے، آگ کی طرح نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور دین کی بیخ کنی کر کے جہنم کی طرف جانے کا سامان کر دیتی ہے۔

اللہ تعالی ہر مسلمان کو مطہر قلوب منزہ عن العیوب ﷺ کے صدقے سے بغض و کینہ جیسی مہلک ترین بیماری سے دائمی حفاظت مقدر فرمائے۔ آمین