سرفراز
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
نمبر: 0324651688
اسلام
انسانیت کو اخوت، محبت اور خیرخواہی کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بارہا بغض، کینہ
اور عداوت سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ یہ برائیاں دلوں کو سیاہ اور تعلقات
کو برباد کر دیتی ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بغض و کینہ کی سخت مذمت اور ان کے مضر
اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں پانچ احادیث بمع ترجمہ اور وضاحت درج ہیں:
(1) حدیث: عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ
الْعَوَّامِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ
وَالْبَغْضَاءُ، هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ
تَحْلِقُ الدِّينَ (جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2510)
ترجمہ:
حضرت زبیر بن عوام سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم پر پچھلی امتوں کی
بیماری چڑھ آئی ہے: حسد اور بغض۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال
مونڈتی ہے بلکہ دین کو مونڈ ڈالتی ہے۔"
بغض و کینہ انسان کے دین کو کمزور اور برباد کر
دیتا ہے، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا
تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ،
حدیث: 2563)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، نہ
بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔
وضاحت:
اسلام باہمی محبت اور اخوت چاہتا ہے، بغض و کینہ امت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔
(3) حدیث: عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا
يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ
فَيُعْرِضُ هَذَا، وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
(صحیح
البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6077)
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین
دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ جب وہ دونوں ملیں تو ایک ادھر اور دوسرا ادھر منہ پھیر
لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔
وضاحت:
بغض و کینہ کی بنیاد پر قطع تعلقی سخت ناپسندیدہ ہے، اسلام صلح اور تعلق جوڑنے پر
زور دیتا ہے۔
(4) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ،
فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا
كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ
حَتَّى يَصْطَلِحَا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2565)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں
اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، سوائے اس
کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف کینہ ہو۔ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو روکے رکھو یہاں
تک کہ وہ صلح کر لیں۔"
وضاحت:
بغض و کینہ مغفرت میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس لیے دل کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
(5) حدیث: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنْ
مَاتَا دَخَلَا النَّارَ (سنن أبي داود، کتاب الأدب، حدیث: 4915)
ترجمہ:
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان سے
تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ اگر وہ اسی حالت میں مر گئے تو دونوں جہنم میں
داخل ہوں گے۔"
کینہ
پر مبنی قطع تعلقی آخرت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔
احادیثِ
نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کی دین و دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتے
ہیں۔ یہ دلوں کی سختی، تعلقات کی خرابی اور اللہ کی مغفرت سے محرومی کا باعث ہیں۔
اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو بغض، کینہ اور حسد سے پاک رکھے اور صلح، محبت
اور بھائی چارے کو اپنائے۔
Dawateislami