محمد
اسماعیل (درجہ خامسہ ماڈل جامعۃ المدينہ سول
لائن فیصل آباد ،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر:
03363361817
پیارے
اسلامی بھائیو! بغض و کینہ کے کئی دنیاوی و اخروی نقصانات ہیں۔ دنیاوی طور پر دیکھا
جائے تو اس سے رشتے اور دوستیاں برباد ہوتی ہیں اور انسان ہر وقت منفی سوچ میں
مبتلا رہتا ہے اور سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ بات ہے کہ منفی سوچ انسان کی صحت پر
بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اخروی طور پر اگر نقصانات کی بات کریں تو سب سے بڑا
نقصان یہ ہے کہ اللہ اور اس کا محبوب ﷺ ناراض ہوتے ہیں۔ ذیل میں ہم
کچھ احادیث ذکر کریں گے جس میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی اور اس سے منع کیا گیا
ہے۔
بغض
رکھنے والے کی مغفرت نہیں ہوتی: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "بندوں
کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں، پیر اور جمعرات کو، پس ہر بندے کی
مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندے کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے،
اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں"
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب النھی عن الشحناء والتھاجر، حدیث 2565)
دین
مونڈنے والی بیماری:حضرت زبیر رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:اگلی
اُمتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے۔
میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے"
("مسند" امام احمد بن حنبل، مسند زبیر بن العوام، حدیث 1412)
دیکھا
آپ نے کہ کس طرح حسد و بغض ہمارے دین کے لیے بھی خطرناک ہے۔
بھائی
بھائی ہو کر رہو: ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آپس
میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو
کر رہو۔ (صحیح بُخاری، کتاب الادب، باب یاایھا الذین آمنوا اجتنبو الخ حدیث 6066)
بدگمانی،
حسد، بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت
چاہتا ہے لہٰذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مراۃ المناجیح، جلد 6)
کامل ایمان
والا: حضرت
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اللہ کے لئے محبت کی،
اور اللہ کے لیے بغض رکھا، اور اللہ کے لیے عطا کیا، اور اللہ کے لیے منع کیا، تو تحقیق اس نے اپنا ایمان
کامل کرلیا" (سنن ابی داؤد ،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ ، حدیث
4681)
اس حدیث
پاک سے ثابت ہوا کہ اللہ کے لیے کسی سے
بغض رکھنا کامل ایمان کی نشانی ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول اور صحابہ و اہل بیت اور اولیاء اللہ کے دشمنوں سے بغض
رکھنا چاہیے اور ان سے بچنا چاہیے۔ اپنی ذات کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھنا چاہیے۔
اولیاء
اللہ سے بغض رکھنے والے کے لیے وعید: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ﷻ نے
فرمایا: "جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اُسے میں نے لڑائی کا اعلان دیدیا۔ (بُخاری،
کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث 6502)
ان
احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کے بغض و کینہ اللہ ﷻ اور
اس کے حبیب ﷺ کو ناپسند ہے۔ اللہ ہمیں
اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض و کینہ رکھنے سے بچائے اور اپنی رضا پر عمل کرنے والا
بنائے۔ آمین
Dawateislami