فن نمبر 03316551905

اسلام ایک ایسا دین ہے جو دلوں کی صفائی، اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مسلمان کے دل میں بغض و کینہ نہ ہو، کیونکہ یہ انسان کو گناہوں کی طرف مائل کرتا ہے اور خیر سے محروم کر دیتا ہے۔ کینہ رکھنے والا نہ دنیا میں سکون پاتا ہے اور نہ ہی آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

حدیث (1) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6064)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ نہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگو، نہ تجسس کرو، نہ حسد کرو، نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔"

اس حدیث میں واضح طور پر بغض و کینہ سے منع کیا گیا اور اخوت و بھائی چارے کی تاکید کی گئی ہے۔

حدیث (2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2560)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: "آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔"

اس حدیث میں بغض و کینہ کی حرمت اور آپسی تعلقات کی درستگی پر زور دیا گیا ہے۔

حدیث (4) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأُمُورِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ(سنن الترمذی، کتاب الزھد، حدیث: 2658)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں کہ مسلمان کے دل میں ان کے ساتھ کینہ نہیں رہ سکتا: عمل کو اللہ کے لیے خالص رکھنا، حکمرانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہنا۔"

اخلاص اور خیرخواہی دل کو صاف رکھتے ہیں اور بغض و کینہ کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔

حدیث (4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِسِلَاحٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث: 7072)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار نہ اٹھائے، ہو سکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ کو بہکا دے اور وہ آگ میں جا گرے۔"

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغض و کینہ دل کی بیماری ہے جو انسان کی نیکیوں کو ضائع کر دیتی ہے، تعلقات میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہے، اور یہ بیماری انسان کو اللہ کی مغفرت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو صاف رکھے، دوسروں کے لیے خیرخواہی کرے اور محبت و اخوت کے راستے پر گامزن رہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین