احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
فون نمبر =
03246535883
بغض یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے ۔ ‘‘ بغض و
کینہ کی قرآن وحدیث اور بزرگان دین کےاقوال میں شدید مذمت بیان
فرمائی گئی ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی
الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ
مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر
اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو
کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
صدرُالافاضل
حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں
شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا
ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں
میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
( 1 )
دعا قبول نہیں ہوتی :
حضرت سید
نا فقیہ ابواللیث سمرقندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن
کی دعا قبول نہیں کی جاتی : (پہلا) حرام کھانے والا (دوسرا) کثرت سے غیبت کرنے
والا اور ( تیسرا) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد
موجود ہو ۔ ( درة الناصحين :صفحہ نمبر :
70 ) (رسالہ: بغض وکینہ ، صفحہ نمبر : 12 مکتبۃ المدینہ )
(2) بخشش
سے محرومی :
سراج
منیر ، محبوب رب قدیرﷺ کا فرمان عالیشان
ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض و کینہ
رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: أَتُرُكُوا أَوِ ارْكُوا
هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئا ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض
سے واپس پلٹ آئیں۔ ( صحیح مسلم شریف ، کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحناء ،
صفحہ نمبر : 1388 ، حدیث نمبر : 2565 )
( 3 )
اللہ کی رحمت سے محرومی :
اللہ
پاک کے محبوب ، دنائے غیوب کا فرمان عالیشان ہے : اللہ عزوجل( ماہ ) شعبان کی
پندرہویں رات اپنے بندوں پر ( اپنی قدرت کے شایان شان ) تجلی فرماتا ہے ، مغفرت
چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ
رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔( کتاب : شعب الایمان ، باب فی الصیام
، ماجاءفی لیلۃ النصف من شعبان ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 382 ، حدیث نمبر :
3835 )
( 4 )
بغض نہ رکھو :
حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب
و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے
بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ ( فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مسلمانوں کی
حرمت ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 280 ، حدیث نمبر : 235 ، مکتبۃ المدینہ )
( 5
)جنت کی خوشبو سے محرومی :
حضرت سید
نافضيل بن عياض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے
خلیفہ ہارون رشید کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا "اے حسین و جمیل چہرنے
والے ! یا د رکھ! کل بروز قیامت اللہ عز وجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا
۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خوبصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح
یا شام اس حال میں نہ کرنا کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔
بے شک رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ أَصْبَحَ لَهُمْ غَاشًا
لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے
تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ یہ
سن کر خلیفہ ہارون رشید رونے لگے ۔( حلیۃ الاولیاء ، جلد نمبر : 8 ، صفحہ نمبر : 108 ، حدیث
نمبر : 11536 )
ہمیں
کسی بھی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض وکینہ ہرگزنہیں رکھنا چاہیے ، بغض وکینہ
دین کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، بغض
وکینہ رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
رحمت سے محروم رہتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے بغض وکینہ سےمحفوظ
فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami