فون نمبر ۔03204880672

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ بغض و کینہ کی مذمت کے متعلق چند احادیث ملاحظہ کیجیے:

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ أَحَبَّنِيْ وَمَنْ أَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ۔

یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دنیوی امور میں صاف دل ہو،سینہ کینہ سے پاک ہو،تب اس میں انوار مدینہ آئیں گے۔دھندلا آئینہ اور میلا دل قابل عزت نہیں مگر کفار سے عداوت اصل ایمان ہے۔رب فرماتا ہے: "لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِ اللہ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہ وَ رَسُوۡلَہٗ " ایسے ہی فاسق مسلمانوں کی بدکاری سے ناراض ہونا عبادت ہے۔لہذا حدیث صاف ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

یعنی جیسے اعمال میں سنتوں کی پابندی باعث ثواب ہے،ایسے ہی دل صاف رکھنا،اچھے اخلاق ہونا بھی سنت ہے۔جس سے قرب رسول اللہ حاصل ہوگا۔افسوس کہ اکثر لوگ یہاں پھسل جاتے ہیں۔اتباع سنت کا دعویٰ ہوتا ہے مگر سینے کینوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اللہ اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

عَنْ عَوفِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خِيَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ وشِرَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُوْنَهُمْ وَيُبْغِضُوْنَكُمْ وَتَلعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُوْنَكُمْ قَالَ: قُلْنَا:يَارَسُولَ اللهِ اَفَلَا نُنَابِذُهُمْ قَالَ:لَا مَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ لَامَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ(فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:661)

حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم ﷺ کو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ ﷺ !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ (رَوَاهُ مُسْلِم)

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064 حدیث:6541(

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچائے ۔آمین