احسن
قادری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی
،پاکستان)
وٹس ایپ نمبر :
03192699377
مکتبۃ
المدینہ کی کتاب "باطنی بیماریوں کی معلومات" میں ارشاد ہے: کینہ یہ ہے
کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)
یعنی کینہ
وہ زہر ہے جو دل میں چھپ کر ایمان کو کمزور کرتا ہے، عبادات سے لذت چھین لیتا ہے
اور تعلقات کو توڑ دیتا ہے۔اسلام نے دلوں کو صاف رکھنے اور باہمی محبت قائم کرنے کی
تعلیم دی ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں بغض و کینہ سے منع فرمایا۔
مسلمانوں
کے درمیان بغض و کینہ سے منع فرمایا گیا: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا
وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6065) ترجمہ: آپس میں
بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے ہو کر بھائی
بھائی بن جاؤ۔
اس حدیثِ
پاک میں نبی کریم ﷺ نے امت کو اجتماعی محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ بغض و
کینہ دلوں کی صفائی چھین لیتا ہے اور شیطان اسی ذریعے سے مسلمانوں کے درمیان نفرت
پھیلاتا ہے جو بندہ مومنوں کے لیے دل میں نفرت رکھتا ہے، وہ دراصل اپنے ایمان کو
زنگ آلود کر لیتا ہے۔
کینہ
رکھنے والا مغفرت سے محروم رہتا ہے:قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: يُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ،
فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِ اللہ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَ
بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ (صحیح مسلم، حدیث: 2565)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جنت کے دروازے ہر پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں، اور ہر بندے کو
بخش دیا جاتا ہے جو شرک سے پاک ہو،سوائے اُس شخص کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے لیے
کینہ ہو۔
یہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کینہ دار شخص کی مغفرت مؤخر کر دی جاتی ہے۔ اللہ
تعالیٰ اُس وقت تک اس کے گناہوں کو نہیں بخشتا جب تک وہ دل سے اپنے مسلمان بھائی
کو معاف نہ کر دے یعنی کینہ انسان اور مغفرت کے درمیان دیوار بن جاتا ہے
تین دن سے زیادہ بغض و ناراضگی ناجائز ہے: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ
فَوْقَ ثَلَاث (صحیح بخاری، حدیث:
6077) ترجمہ:کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے
بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔
اختلاف
فطری ہے، مگر بغض و کینہ رکھنا ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ ناراضگی
کی اجازت نہیں دی تاکہ دلوں میں نفرت نہ جڑ پکڑ سکے یہی دراصل دل کی صفائی اور ایمان
کی نشانی ہے۔
حدیث کی
روشنی میں بغض و کینہ کے نقصانات:
1:
مغفرت رک جاتی ہے:جیسا کہ اوپر حدیث میں آیا، کینہ رکھنے والا شخص بخشش سے محروم
رہتا ہے
2: نیکیاں
ضائع ہو جاتی ہیں:نبی ﷺ نے فرمایا: بغض ایمان کو منہ کے بل گرا دیتا ہے جیسے سرکہ
شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان)
یعنی کینہ
ایمان کی مٹھاس کو زائل کر دیتا ہے۔
3:
عبادت کی لذت ختم ہو جاتی ہے: دل جب بغض سے بھرا ہو تو ذکر و عبادت سے سکون حاصل
نہیں ہوتا۔
4:
معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے: کینہ رکھنے والے دل دوسروں کی بھلائی نہیں چاہتے یوں
خاندان معاشرہ اور قوم انتشار کا شکار ہو جاتی ہے بغض و کینہ وہ زہر ہے جو دلوں کی
روشنی کو بجھا دیتا ہے۔
لہٰذا
ہمیں چاہیے کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، دوسروں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پیدا کریں
اور اپنے ایمان کو محبت، درگزر اور اخوت سے مضبوط بنائیں۔
حدیث
شریف: تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہیں لا سکتے
جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ (صحیح مسلم: 54)
اللہ پاک ہمیں بغض
و کینہ جیسی باطنی بیماری سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami