فون نمبر:: 03061977756

میٹھے اسلامی بھائیو: بغض و کینہ کی مذمت پر احادیث مبارکہ اور سلف وصالحین کے اقوال میں بہت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بغض وکینہ کی وجہ سے انسان کے اعمال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے بغض وکینہ کے سبب آپسی محبت کو ختم ہو جاتی ہے اور دشمنی کو پیدا ہو جاتی ہے ۔ انسان کو اپنے دل میں کسی قسم کا بھی کوئی بھی بغض وکینہ نہیں رکھنا چاہیے آپس میں پیار محبت اور اتحاد ہونا چاہیے۔ ایک کو دوسرے سے بغض کی بجائے محبت ہونی چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آپس میں پیار محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اور بغض وکینہ جیسی باطنی بیماری سے ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ آمین

کینہ کی علامات اور مثالیں: کسی سے پہلے کی طرح خوش مزاجی اور نرمی و مہربانی کے ساتھ پیش نہ آنا اس کو سلام کرنے اور ملاقات کرنے کو دل نہ کرنا اس کو دیکھنے اور بات کرنے کو دل نہ چاہنا اس کی خیر خواہی کا خیال نہ کرنا وغیرہ

کینہ کا حکم: مسلمان سے بلا وجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے۔

(1) منافق دل میں بغض رکھتا ہے: روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں: میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216)

(2)دل میں کینہ نہ رکھنے والا جنتی: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جنتی شخص وہ ہے جو اپنے دل میں کسی کے لئے دھوکہ، کینہ،یا حسد نہیں رکھتا۔ (مسند امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ حدیث نمبر ، 12697، صحیح السند)

(3) مؤمن کینہ نہیں رکھ سکتا: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق توڑ کے رکھے ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر ،6077)

میٹھے اسلامی بھائیو! جتنے بھی قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں ہم نے بغض وکینہ کی مذمت پر وعیدیں سنی ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمان بھائیوں کو اس بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ