0323-1494018

اسلام ایک ایسا دین ہے جو دلوں کو جوڑنے، محبت، بھائی چارے اور خیر خواہی کا درس دیتا ہے۔ اس کے برعکس، بغض و کینہ نفرت حسد، دشمنی دلوں کو پھاڑتا ہے، تعلقات کو ختم کرتا ہے، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بار بار اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ ، جلد:3،صفحہ: 223 )

بغض وکینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ،جلد:1،صفحہ: 629)

آئیے حدیث مبارکہ سے اس کی مذمت پڑھتے ہیں:

(1) شب تجلی و مغفرت: عن عائشة رضی اللہ عنہ ا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطَّلِعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ لِلْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ

ترجمہ:امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ الخ، جلد: 3، صفحہ: 383، حدیث نمبر: 3835)

(2) مغفرت عام سوائے کینہ پرور کے: وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،جلد:1،کتاب الصلٰوۃ ،باب قیام شھر الرمضان ، تیسری فصل ،صفحہ نمبر: 118،حدیث نمبر:1231 )

(3) مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ ‘‘

ترجمہ: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسوا کرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، صفحہ نمبر:1064، حدیث:6541)

ان احادیث طیبہ سے یہ سبق ملا کہ بغض و کینہ مومن کے دل کے شایانِ شان نہیں۔ یہ وہ زہر ہے جو ایمان کی مٹھاس کو کھا جاتا ہے۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو بعض و کینہ جیسی باطنی بیماریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ