ملک
دلبر (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،پاکستان)
فون نمبر۔ 03275373712
اسلام
میں بغض و کینہ کی شدت سے مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے
مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم رکھنے کی
تاکید کی ہے۔ بغض اور کینہ، انسان کے دل کو فساد کا شکار کر دیتے ہیں اور ان کی
موجودگی انسان کی روحانیت اور اخلاقی حالت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت
تک ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے
جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 13)
یہ حدیث
ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری شرط کی وضاحت کرتی ہے، اور اس میں مسلمانوں کو اپنے
بھائیوں کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بغض و کینہ کے
برعکس، انسان کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جو وہ خود اپنے لیے
پسند کرتا ہے۔
بغض و کینہ
سے بچنے کی ہدایت:ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"آپس میں
بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو بلکہ
اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ
وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت نہ کرے۔(صحیح البخاری ۔حدیث
نمبر 6076)
اس حدیث
میں نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بغض و کینہ سے بچنے کی سخت نصیحت
کی ہے۔ اس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، تعلقات کی صفائی
اور حسن ظن ہونا چاہیے۔
اسلام
میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ مسلمان
اپنے دلوں کو صاف رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی احادیث میں
اس بات پر زور دیا کہ دل میں بغض اور کینہ نہ ہو، بلکہ ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے
لیے محبت اور خیر کی دعا کرنی چاہیے۔
اللہ تعالی ہمیں
بغض و کینہ جیسی باطنی بیماری سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami