03261683576

(1) ایمان کی تکمیل اور باہمی محبت : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم مؤمن نہ ہوگے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 54)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ مومن ایک دوسرے سے محبت کریں، نہ کہ دل میں بغض یا کینہ رکھیں۔

(2) کینہ رکھنے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے :حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس کے دل میں ہوں گی، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا: دل میں کینہ، خیانت اور تکبر۔ (مسند احمد، حدیث: 12510، صحیح الاسناد)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ کینہ دل میں رکھنا جنت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

(3) حسد اور بغض ایمان کو کھا جاتے ہیں :حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمہارے اندر پچھلی امتوں کی بیماری داخل ہو گئی ہے: حسد اور بغض۔ اور یہ مونڈ دینے والی چیز ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے، بلکہ یہ دین کو مونڈ ڈالتی ہے۔" (جامع ترمذی، حدیث: 2510)

(4) مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان سے بغض جائز نہیں : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے، اس طرح کہ جب وہ ملیں تو ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6077؛ صحیح مسلم، حدیث: 2560)

یہ حدیث بغض، قطع تعلق اور دل کی کدورت کو ختم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

(5) دل کو صاف رکھنے کی فضیلت : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: "کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر وہ شخص جس کا دل صاف اور زبان سچ بولنے والی ہو۔" صحابہ نے عرض کیا: "ہم سچ بولنے والے کو تو جانتے ہیں، دل کا صاف ہونا کیا ہے؟" فرمایا: "وہ دل جو پرہیزگار ہو، پاکیزہ ہو، جس میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ ظلم، نہ کینہ، نہ حسد۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4216)

مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں بغض، حسد، کینہ اور دشمنی رکھنا اسلام میں سخت ممنوع ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی روحانی تباہی کا سبب بنتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کی جڑ بھی یہی ہے۔ ایمان کی تکمیل، جنت کا حصول، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دل کو ہر قسم کی نفرت اور کدورت سے پاک رکھنا ضروری ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین