فون نمبر:03274110025

بغض و کینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی ہے(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، القول في معنی الحقد ۔۔الخ ،ج3، ص 223)

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

تفسیر :صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد تعلیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے : اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وہاں بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکر اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے۔

(3)کینہ اور دوزخ: سرکار دو عالم ، نور مجسم ﷺ و بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں؟ یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔(المعجم الاوسط ، باب العين، من اسمہ عبد الرحمن، 3 / 2301 الحديث 4653)

(4) مؤمن کی خصوصیت : رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کینہ پرور نہیں ہوتا ۔ ( الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثالثۃ الغضب بالباطل الخ ، 124/1)

(5)بخشش سے محروم : رسول نذیر، سراج منیر محبوب رب قدیر ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا اور کیا جاتا ہے ۔ ( بغض و کینہ ، ص 9 المدینۃ العلمیہ)