محمد مومن خان  

Mon, 13 Apr , 2026
3 hours ago

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں انسان کے دل و دماغ کی اصلاح پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ دل ہی تمام اعمال کا مرکز ہے۔ اگر دل صاف اور خالص ہو تو انسان کے تمام اعمال نیک بن جاتے ہیں، اور اگر دل میں بغض، حسد اور کینہ گھر کر لے تو انسان کی نیکیوں کی روشنی بجھ جاتی ہے۔

بغض و کینہ ایسی روحانی بیماریاں ہیں جو انسان کے اخلاق، عبادت اور تعلقات کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بارہا ان سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان بھائیوں کے درمیان محبت، خیرخواہی اور اتحاد پیدا کرو، کیونکہ بغض و کینہ نہ صرف ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسلام کی یہ تعلیمات ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ دلوں کی صفائی، عفو و درگزر، اور باہمی محبت ہی ایک سچے مومن کی پہچان ہے۔

آئیے بغض و کینہ کی مذمت حدیث پاک کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے:

حضرت سیدنا ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلے تھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی تھا جب ہم ذات الصفاح کے مقام پر پہنچےتو وہ انتقال کر گیا۔ہم نے اس کے غسل کفن کا انتظام کیا پھر اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اس کہ قبر کالے کالےسانپوں سے بھری ہوئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے باہر گئی،چنانچہ ہم نے اسے وہاں بھی نہیں دفنایا اور آپ کے پاس حاضر ہو گئے ہیں۔حضرت سیدنا عبّاس نے فرمایا:يہ اس کا کینہ ہے جو وہ اپنے دل میں رکھتا تھا،جاؤ!اور اسے وہیں دفن کر دو۔ (مو سوعۃ ابن ابی دنيا،كتاب القبور،٦/٨٣)

دافع رنج و ملال ، صاحب جو دونو ال ﷺ کا فرمان با کمال ہے : عنقریب میری امت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحق ہوگی ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تکبر کرنا ، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دُنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ۔۔ (المعجم الاوسط، باب الميم من اسمہ مقدام ٣٤٨/٦٠ الحديث : ٩٠١٦)

سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین