واٹسیپ نمبر: 03207820628

آپ ﷺ کی پاکیزہ اور اخلاقی تعلیمات ہے، جو دلوں کو بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسی مہلک بیماریوں سے پاک کرنے کا حکم دیتی ہے۔ دل کی یہ بیماریاں انسان کے ظاہر و باطن کو خراب کر دیتی ہیں اور اسے خیر و بھلائی سے محروم کر دیتی ہیں۔ خاص طور پر "بغض و کینہ" ایسی آفتیں ہیں جو نہ صرف دینی اخوت کو ختم کرتی ہیں بلکہ انسان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔

کثیر احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ جن میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں :

(1) گواہی کا رد فرمانا :

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ:

أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَائِنَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ

یعنی رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کردیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غمر کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور قانع سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ (سنن ابوداؤد/کتاب: فیصلوں کا بیان/باب: جس شخص کی گواہی رد کردی جائے اس کا بیان/حدیث نمبر: 3600/ جلد: 3/صفحہ: 335)

(2) مغفرت کا نہ ہونا :

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :

تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا

یعنی لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث: 36(2565))

(3) بد خلق آدمی کون ہے :

حضرت حارثہ رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ

کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہوا سے دبایا جاتا ہو لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ (مسند احمد/کتاب: حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/باب: حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/حدیث نمبر: 18730/جلد: 31/ صفحہ: 29)

(4) دین کو مونڈ دینے والی چیز :

حضرت زبیر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

یعنی تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو۔ ( مسند احمد/کتاب: حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات/باب: حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات/حدیث نمبر: 1412/ جلد: 3/ صفحہ: 29)

بغض و کینہ نہ صرف انسان کو روحانی تباہی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ سماجی تعلقات بھی بگاڑ دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دلوں کو صاف رکھیں، معافی کو شعار بنائیں، اور اسلامی اخوت کو فروغ دیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی سنتوں اور احادیث کے ذریعے اُمت کو سکھایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں سے ہر قسم کے بغض، کینہ، اور حسد کو نکالنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سچے مسلمان بننے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ