آج کل معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے بغض رکھتے ہیں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اگر ہم بطور مسلمان یہ غور کریں کہ ہمارے پیارے اسلام نے ہماری کیا تربیت فرمائی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہیں ایک دوسرے کے بارے میں کیسے سوچیں اور ایک دوسرے کا کیسا خیال کریں ہمارے نبی نے ہماری اس بات پر بھی تربیت فرمائی ہے۔  اس کے بارے میں کچھ حضور کے فرمان سنتے ہیں:

فرمان آخری نبیﷺ: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث6541(

مذکورہ حدیث پاک میں بعض ظاہری وباطنی بیماریوں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک مہلک مرض حسد سے بچنے کا حکم ارشاد ہوا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو.

بغض کی تعریف اور اُس کی مذمت:

بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ، 3/ 223

قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة الخ،حدیث:3835

حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا یعنی تباہ کردیتا ہے۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، حدیث:149)

بغض وکینہ کا حکم:

کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ، 1/ 629)

بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی، بلکہ بسا اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم حج کی سعادت پانے کے لئے نکلےتھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا،جب ہم ذَا الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لئےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا۔جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا،کتاب القبور، رقم: 128)

انسان کے برا ہونے کی علامت:

’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے‘‘یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 553)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین ﷺ

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کر نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

یہاں ظن سے مراد مجتہدین علماء کا قیاس نہیں بلکہ بلا دلیل بلا ثبوت مسلمان بھائی کے متعلق بدگمانی کرلینا ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا،اس کے ہر قول ہر کام کو اپنی دشمنی قرار دے دینا یہ برا ہے کہ یہ لڑائی فساد کی جڑ ہے،بعض عورتوں کو بلاوجہ شبہ ہوتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر جادو کرایا ہے اگرگھر میں کسی کو اتفاقًا بخار آگیا یا جانور نے دودھ کم دیا تو اپنے پڑوسیوں پر جادو تعویذ گنڈے کی بدگمانی کرکے دل میں گرہ رکھ لی یہ ممنوع ہے۔ کیونکہ ایسی بدگمانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں اور شیطان بڑا جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ بھی بڑے ہی ہوتے ہیں، قرآن کریم فرماتاہے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وہ آیت کریمہ اس حدیث پاک کی تاکیدکرتی ہے۔

کسی کی باتیں خفیہ طور پر سننا کہ اسے خبر نہ ہو۔تجسّس جیم سے کسی کے خفیہ عیب کی تلاش میں رہناحس اورجس میں اور بھی چند طرح فرق کیا گیا ہے۔غرضکہ کسی کی ہر بات پر کان لگائے رہنا،کسی کے ہر کام کی تلاش میں رہنا کہ کوئی برائی ملے تو میں اسے بدنام کردوں دونوں حرام ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مبارک ہو کہ جسے اپنے عیبوں کی تلاش دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھے۔ یعنی وہ اپنے عیب ڈھونڈنے میں ان سے توبہ کرنے میں ایسا مشغول ہو کہ اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا وقت ہی نہ ملے۔

نہ تھی اپنے جو عیبوں کی ہم کو خبر ر

ہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر

تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا

نجش کے چند معنی ہیں دوسروں پر اپنی بڑائی چاہنا،دھوکا دینا،نیلام میں قیمت بڑھا دینا خریدنے کی نیت نہ ہو یہ سب حرام ہے۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت کا زوال اپنے لیے اس کا حصول چاہنا کہ اس کے پاس نہ رہے میرے پاس آجائے یہ حرام ہے،شیطان کو حسد نے ہی مارا بغض دل میں کینہ رکھنا۔

یعنی بدگمانی،حسد،بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔

تنافس کے بہت معنی ہیں رغبت کرنا،لالچ کرنا،نفسانیت سے فساد پھیلانا یہاں بمعنی نفسانیت و فساد ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللہ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللہ ؟قَالَ: تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گےمیں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

حضرت سلمان فارسی یعنی ایران کے رہنے والے تھے،عرب میں رہنے لگے۔بعض طبیعتوں میں صوبائی یا ملکی تعصب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارا صوبہ اچھا دوسرا صوبہ وہاں کے لوگ برے اس کی پیش بندی فرماتےہوئے یہ ارشاد ہوا کہ یہاں فارسیت اور عربیت کا فرق نہ کرنا۔یہ کلام شریف اگلے کلام کی تمہید ہے ان تعصبوں سے الله بچائے مگر کس نفیس طریقہ سے تعلیم فرمائی سبحان الله! اپنے ذکر سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کے قلب پر گہرا اثر ہو۔ یعنی جب انسان اپنے ماں باپ سے عدوات نہیں کرتا جن سے جان ملتی ہے تو حضور سے تو ہم کو ایمان،قرآن عرفان بلکہ رحمان ملا تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں حضور سے بغض رکھوں۔

یعنی عرب سے اس لیے نفرت کرنا کہ وہ عرب ہیں حضور سے بغض ہے کیونکہ حضور سرکار عربی ہیں ،قرآن عربی میں ہے لہذا مدینہ منورہ کے منافقین اور عرب کے یہودیوں،نجد کے وہابیوں سے نفرت کرنا ان سے بعض رکھنا بالکل درست ہےکہ اس میں کفر سے نفرت ہے نہ کہ ان کے عربی ہونے سے،حضور کی ہر منسوب چیز سے الفت رکھنا علامت ایمان ہے،اس نسبت سے نفرت کرنا علامت کفر ہے،دیکھو صفا مروہ پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ سے نسبت ہے تو انہیں شعائر الله فرمایااِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللهِ"اور شعائر الله کی تعظیم دلی تقویٰ ہے وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللهِ فَاِنَّھَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

فرمان آخری نبی ﷺ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهٗ مُؤْمِنٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

شرح :سبحان الله! حضرت علی ایمان کی کسوٹی ہیں۔جو اپنے ایمان کی تحقیق کرنا چاہے کہ میں مؤمن ہوں یا منافق وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں غور کرے کہ مجھے ان سرکار سے کتنی محبت ہے۔خیال رہے کہ یہاں محبت علی کا ذکر ہے نہ کہ صرف دعویٰ محبت علی کا،محض دعویٰ محبت کرنا اور ہر طرح ان سرکار کی مخالفت کرنا در حقیقت حضرت علی سے عداوت ہے۔بعض لوگ بے نمازبھنگی چرسی اولاد علی کو،حضرات صحابہ کو جو حضرت علی کے دوست ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں وہ محبان علی نہیں دشمنان علی ہیں،رب فرماتاہے:اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ"اطاعت علی بڑی چیز ہے الله وہ نصیب کرے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

شرح : یعنی سارے انصار سے عداوت صرف دین کی ہی وجہ سے ہوسکتی ہے کسی خاص انصاری کی مخالفت دنیاوی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اسی لیے یہاں انصار جمع ارشاد ہوا۔انصار حضور ﷺ اور مہاجرین کے ایسے انوکھے میزبان ہیں کہ ان کی مثال آسمان و زمین نے نہ دیکھی تھی۔حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ سب کے احسانات کے بدلے ہم نے کردیئے مگر ابوبکر صدیق دوسری روایت میں ہے کہ انصار کے احسانات کا بدلہ نہیں ہوسکا،قیامت میں رب سے دلوایا جاوے گا ان احسانات کو یاد رکھو اور ان سے محبت کرو کہ وہ ہمارے نبی کے محسن ہیں تو ہم سب کے محسن ہیں رضی الله عنہم اجمعین۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایک دوسرے سے بعض کینہ کرنے سے بچائے۔ آمین