محمد
حامد رضا قادری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
کنزالایمان شاہکوٹ ،پاکستان)
ہم میں
سے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کی زندگی گزار کر جہان آخرت کی
طرف روانہ ہو جانا ہے اور آخرت میں ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہے یعنی
پل صراط قبر و حشر وغیرہ سے اور ان سب نازک ترین لمحات میں کامیاب وہی ہوگا جس نے
دنیا میں اچھے اور نیک اعمال کیے ہوئے ہوں گے اب دنیا میں کیے جانے والے اعمال بعض
ظاہری طور پر اچھے ہوتے ہیں جیسے نماز و روزہ اور بعض باطنی طور پر نیک ہوتے ہیں جیسے
اخلاص ۔اب دوسری طرف دیکھیں تو بعض کام ظاہری طور پر اچھے نہیں ہوتے ان پر گناہ
ہوتا ہے جیسے نماز نہ پڑھنا جھوٹ بولنا اور بعض کام باطنی طور پر برے ہوتے ہیں جیسے
بغض و کینہ وغیرہ۔
بغض و کینہ کی تعریف:
کینہ یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے نفرت
کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔
قرآن پاک میں بغض و کینہ کی مذمت: اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔
اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی
الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمہ
کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے
میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
صدر
الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے
تحت فرماتے ہیں: اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ
شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا
ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکر الہی اور نماز کے اوقات کی پابندی
سے محروم ہو جاتا ہے۔
احادیث
مبارکہ میں بغض و کینہ کی مذمت :
اللہ
کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب عزوجل و ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے
بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت
فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان
کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے ۔(شعب الایمان باب فی الصیام حدیث3835)
ایک
اور جگہ پر ارشاد فرماتا ہے: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ لیتا
ہے یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔ (کنزالعمال
کتاب الاخلاق حدیث ٥٤٨٦)
حضرت
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو نہ بغض
کرو نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اللہ عزوجل کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو ۔ (صحیح
بخاری کتاب الادب حدیث٦٠٦٦)
حضرت
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد
اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں یعنی مسلمان کا ان چیزوں
سے بالکل تعلق نہ ہونا چاہیے۔ (مجمع الزوائد کتاب الادب حدیث١٣١٢٦)
حضرت
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد ایمان
کو ایسے بگاڑتا ہے جس طرح ایلوا(یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس) شہد کو بگاڑ دیتا
ہے ۔ (الجامع الصغیر للسیوطی حرف الحاء حدیث
٣٨١٩)
حضرت
انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے
جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے اور صدقہ خطا کو بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا
ہے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحسد حدیث ٤٢١)
Dawateislami