نبی اکرم ﷺ کے قول و فعل سے جھلکتی ہوئی شفقت نے پوری کائنات کو ایمان اور محبت کا درس دیا۔ اس محبت کا ایک حسین جلوہ آپ کے چچا زاد بھائی، شیرِ خدا، فاتحِ خیبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ حضور ﷺ کی یہ محبت خاندانی نسبت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ دین کی خدمت میں حضرت علی کی جان نثاری، قربانی اور وفاداری کا صلہ تھی۔

حضرت علی اور قربتِ نبوی: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت پر حضور ﷺ نے خود انہیں غسلِ ولادت دیا۔ آپ آغاز ہی سے قربِ نبوی کے مقام پر فائز ہوئے۔ ولایت کے دروازے آپ سے ہی کھلے اور ہر ولی کو آپ ہی سے فیضِ ولایت ملا۔ آپ کے فضائل بے شمار ہیں۔ علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت علی کے فضائل صحیح روایات میں دیگر صحابہ کرام کے فضائل سے زیادہ بیان ہوئے، کیونکہ آپ کے زمانے میں خوارج نے آپ کے خلاف شور و شر کیا تو اہلِ سنت نے آپ کے فضائل کو خاص اہتمام کے ساتھ جمع کیا۔ (مراۃ المناجیح، 8/344)

حضور کی محبتِ مولا علی پر چند احادیث:

1۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مجھ سے اس درجے میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھا، بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

2۔ حضور ﷺ نے فرمایا: علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

3۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

4۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: منافق علی سے محبت نہیں کرے گا اور مسلمان علی سے بغض نہیں رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

5۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے چار مردوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور خبر دی ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے: علی، ابوذر، مقداد اور سلمان۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حبِ علی ایمان کی علامت ہے اور بغضِ علی نفاق کی نشانی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ہمارے لیے سبق رکھتی ہے کہ ہم بھی ان سے محبت کریں جن سے اللہ اور اس کے رسول محبت فرماتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت دراصل محبتِ رسول ﷺ کی نشانی ہے۔ آج کے مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے دل کو اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرام کی محبت سے منور کرے، کیونکہ یہی محبت ایمان کی پختگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔