حضور کی مولا
علی سے محبت از ہمشیرہ عدیل یوسف، جامعۃ المدینہ فیضان رضا کراچی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے
حضرت علی کے متعلق فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۔ عمر فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ ﷺ نے وصال ظاہری فرمائی آپ حضرت علی سے راضی تھے۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)
حضرت علی کی شان و شوکت: حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا حضرت علی کو تین ایسی فضیلتیں ملی ہیں
کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی مل جاتی تو میرے نزدیک وہ تمام دنیا سے زیادہ محبوب
ہوتی لوگوں نے پوچھا وہ فضائل کیا ہیں تو آپ نے فرمایا: اول حضور ﷺ نے ان سے اپنی صاحبزادی
حضرت فاطمہ کا نکاح کیا دوم آپ نے ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور ان کے لیے وہ
حلال کیا جو مجھے حلال نہیں تیسرے جنگ خیبر میں علم (جھنڈا)علی کو عطا فرمایا۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 369)
نبی رحمت ﷺ کو علی سے محبت کا حکم: رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا ہے
اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے لوگوں نے کہا یا
رسول اللہ ہمیں ان کے نام بتا دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا ان میں سے ایک علی ہیں۔ (ابن
ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
پیاری پیاری اسلای بہنو! ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کی
حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف پیارے آقا ﷺ بلکہ اللہ پاک بھی حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے اور حضرت علی سے محبت کا حکم بھی دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ
حضرت علی سے محبت کریں اور آپ کی سیرت پاک عمل بھی کریں۔
محبت کا نرالا پہلو:مفتی
احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں خیال رہے کہ حضرت علی میں رب نے دو
بزرگیاں/فضیلتیں جمع فرمائی ہیں صحابیت اور حضور کا اہل بیت میں سے ہونا آپ کے گھر
میں حضور نے اور حضور کی گود میں آپ نے پرورش پائی غسل ولادت حضور نے جناب علی کو
دیا اور غسل وفات جناب علی نے حضور کو دیا ادھر چار یار میں داخل ادھر پنجتن پاک
میں شامل۔ (مراۃ المناجیح، 8/295)
دعائے مصطفی: حضرت علی سے
روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک علی پر کرم فرما اے اللہ وہ جدھر رخ
کریں حق بھی ادھر ہی ہو جائے۔ (عقائد اہل سنت صحاح ستہ کی روشنی میں، ص 574)
Dawateislami