حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت منیر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور ﷺ کے چچا ابو
طالب کے صاحبزادے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے زیر سایہ پرورش پائی، بچوں میں
سے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ
کی عمر آٹھ برس تھی، آپ رضی اللہ عنہ بہادری اور علم میں ہے مثال تھے۔
حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ
درج ذیل واقعات اور احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:
سرکار اقدس ﷺ نے جب اللہ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ
سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایاتو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلاکرفرمایاکہ
مجھےخدائے رحمن کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہوجاؤں
گا تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سورہو تمہیں کوئی تکلیف نہیں
ہوگی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں ان کے مالکوں کو دے کر تم
بھی مدینے چلے آنا۔ (خلفائے راشدین، ص 255)
اُخوتِ رسول ﷺ:حضرت علی رضی
اللہ عنہ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچازاد بھائی ہونے کے ساتھ عقد مواخاۃ میں بھی
آپ ﷺ کے بھائی ہیں۔چنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ
دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنادیا حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت
میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی
ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں
یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی
ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3741)
انتہائی قریبی رشتہ: حضرت
جبرائیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور مدد کی
تعریف کی تو حضور ﷺ نے فرمایا: بےشک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں مطلب یہ ہے
کہ علی کو مجھ سے کمال قرب حاصل ہے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کو سن کر حضرت جبرائیل
علیہ السلام نے عرض کیا: میں تم دونوں سے ہوں۔ (الکامل فی التاریخ، 2/28)
جس نے آپ کو براکہا: حضرت
اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا
بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھے برا بھلا کہا۔ (سنن کبری للنسائی،5/133، حدیث:8476)
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور سے اتنا قرب
اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویاکہ اس نے
حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بےادبی کی۔ خلاصہ یہ ہےکہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی
توہین کرنا ہے۔
اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت
عطافرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami