ترمذی اور حاکم حضرت بریدہ سے روایت کرتے ہیں۔رسول پاکﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ پاک نے حکم دیا ہے چار شخصوں کو دوست رکھوں اور یہ بھی بتلایا ہے کہ میں انہیں دوست رکھتا ہوں۔صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ ﷺ ان کے نام بیان فرمائیے۔ آپ نے فرمایا علی انہیں میں سے ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

رسول پاکﷺ نے فرمایا:علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)اس میں کمال قرابت کی طرف اشارہ ہے۔

احمد،ابوطفیل سے روایت کرتے ہیں ایک دن حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کشادہ(کھلی)جگہ میں جمع کیا اور کہا کہ میں ہر اس مسلمان کو قسم دےکر پوچھتا ہوں جو غدیرِخم کے روز وہاں تھاجب رسول اکرمﷺکھڑے تھے تو آپ نے کیا فرمایا تھا۔اس پر تیس شخصوں نے کھڑے ہو کر کہا آپﷺنے اس دن فرمایا تھا جس کا میں دوست ہوں اس کا علی بھی دوست ہے۔اے اللہ !جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس دشمن سمجھ۔ (تاریخ الخلفاء،ص 231)

ترمذی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان عقد مواخات کر دیاتھا۔یعنی ایک کو دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بچشمِ تر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے اپنے سب صحابہ میں عقد مواخات کر دیا ہے، مگر مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو اس پر آقاﷺ یہ فرمایا تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

طبرانی اور حاکم ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ (اس حدیث کی اسناد حسن ہیں)

احمد اور حاکم بسند صحیح عمار بن یاسر سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے حضرت علی سے فرمایا: دو شخص بہت ہی بدبخت ہیں ایک تو احمر جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ شخص جو اے علی تیرے سر پر تلوار مار کر ڈاڑھی کو خون سے رنگ دے یہ حدیث حضرت علی،صہیب اور جابر بن سمرہ وغیرہم سے بھی مروی ہے۔

ترمذی،ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں:ہم منافقین کو حضرت علی کے بغض سے پہچانا کرتے تھے۔ (مسند امام احمد، 1/128، حدیث: 972)