نبی کریم ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے محبت ایک ایسی حقیقت ہے جو سیرت نبی اور تاریخ اسلام کے ہر باب میں روشن طور پر نظر آتی ہے یہ محبت محض خاندانی رشتہ یا نسبی تعلق پر مبنی نہیں تھی بلکہ روحانی ایمانی اور اخلاقی کی بنیادوں پر تھی۔

غزوہ خبیر میں محبت کا اعلان: حضور ﷺ نے غزوہ خبیر میں فرمایا: کل میں علم اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009) اگلے دن وہ علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کو نہ صرف اللہ اور اس کے رسول سے محبت تھی بلکہ خود اللہ اور رسول ﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے۔

غدیر خم کے مقام پر رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں اے اللہ جو علی سے محبت کرے تو بھی اسے محبت کر اور جو علی سے دشمنی کرے تو بھی اسے دشمنی کر۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی حضرت علی سے محبت اور ان کی ولایت کی گواہی دیتی ہے۔

اہل بیت سے محبت کا حکم: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میرے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔

حضرت علی اہل بیت کے اہم رکن ہیں اور حضور ﷺ نے اہل بیت سے محبت کو امت کے لیے لازمی قرار دیا۔

حضرت علی کو علم اور عدالت میں مقام دینا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

یہ جملہ حضرت علی کے علم اور نبی ﷺ کے ان پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے حضور ﷺ کی محبت ایک عظیم مثال ہے جس میں روحانی قربت دینی اعتماد اور خاندانی رشتہ بھی شامل ہے یہ محبت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی سیاسی اور دینی طور پر بھی نمایاں رہی آور حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خود پرورش کی۔