حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت منور حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی
حدیثیں وارد ہیں بلکہ امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جتنی حدیثیں آپ کی
فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں۔
1۔ مومن بعض نہیں رکھ سکتا: حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت
نہیں کرتا اور مومن علی سے بعض وعداوت نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
سبحان اللہ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی کیا
ہی بلند وبالا شان ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ سے محبت نہ کرنے کو
منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے بعض وعداوت رکھنے کو مومن نہ
ہونے کا معیار قرار دیا۔
یعنی جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت نہ
کرے وہ منافق ہے اور جو ان سے بعض وعداوت رکھے وہ مومن نہیں ہے۔
2۔ جس نے آپ کو برا کہا:حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا
بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور ﷺ سے
اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی وبے ادبی کی تو گویا کہ
اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی وبے ادبی کی۔
الغرض ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے۔
العیاذ باللہ تعالیٰ
3۔علی بھی اس کے مولیٰ: حضرت
ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے
کھلے ہوئے میدان میں بہت سے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر تم
لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم غدیر میں میرے متلعق کیا ارشاد فرمایا؟
تو اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ حضور ﷺ نے اس روز
فرمایا تھا: یعنی میں جس کا مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں۔ یااللہ! جو شخص علی
سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے
عداوت رکھ۔ (مسند حمید، 1/250، حدیث: 950)
4۔ شہر علم کا دروازہ: طبرانی
وبزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی وحاکم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم
سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی میں اس علم کا شہر ہوں اور علی اس کا
دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)
5۔علی کا دشمن، اللہ کا دشمن: حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی جس نے علی سے
محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور
جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے
اللہ سے دشمنی کی۔ (معجم کبیر، 23/ 380، حدیث: 901)
6۔ محبت بھرا منظر اور محبتوں بھرا جواب:
مسلمانوں
کے چوتھےخلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک مرتبہ بار گاہ رسالت ﷺ میں
عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ کو وہ (حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا) مجھ سے زیادہ
پیاری ہیں یا میں؟ تو میرے لجپال مدنی آقا ﷺ نے بڑا ہی خوبصورت جواب ارشاد فرمایا:
وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔ (فیضان فاطمہ زہرا، ص 13)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
حضور ﷺ نے فرمایا: میرے پاس سردار عرب کو بلاؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! کیا
آپ عرب کے سردار نہیں؟ فرمایا میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے
سردار ہیں۔ (اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے)
دعا ہے اللہ پاک ہمیں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ
الکریم سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami