حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم ﷺ بہت محبت
کرتے تھے اور تبھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی لخت جگر نور، نظر حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ
عنہما کو حضرت علی کے نکاح میں دے دیا اور خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ زہرا جب تک
حیات رہیں آپ نے نکاح ثانی نہ کیا۔
حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کے متعلق کچھ احادیث
کریمہ پیش خدمت ہیں:
جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ (ترمذی،
5/398، حدیث: 3733)
علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مومن بعض
نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ
کرایا تو علی آئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے عرض کیا کہ آپ نے صحابہ کے
درمیان بھائی چارہ کرادیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم
دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
حضور اکرم ﷺ کی حضرت علی سے محبت ایسی تھی کہ آپ کو
اپنا بھائی بنا لیا اور ان کو اپنا بھائی بنانا ان کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
اے کاش! ہمیں بھی حضرت مولا علی کی محبت اور اسلاف
جیسا وہ عظیم جذبہ عطا ہو جو ہمارے دلوں کو تمام صحابہ کرام کی محبت سے سر شار کر
دے۔اور ہمیں بھی ان کے صدقے بروز قیامت حضور اکرم شاہ بنی آدم نور مجسم ﷺ کی شفاعت
نصیب ہوجائے۔ حضرت علی اور پیارے آقا ﷺ کی محبت مثالی نمونہ ہے۔ ان ہستیوں کا مقام
انبیائے کرام کے بعد آتا ہے۔ اور ان کی محبت کا باب بہت بڑا ہے اور تحریر میں یہ
نہیں سما سکتی۔ ان کی مکمل سیرت کو پڑھنے کے لیے فیضان مولا علی کتاب کا مطالعہ
کیجئے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں محبان اہل بیت میں زندہ رکھے انہی میں موت
دے اور کل قیامت کے دن اہل بیت اطہار کا ساتھ اور شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین
علی سے میں
ہوں اور مجھ سے ہیں جناب علی محبتوں
کا بیاں یوں نصاب ہوتا ہے
Dawateislami