مستقیم
عطّاری ( درجۂ سابعہ مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ،
پاکستان)
اسلام ایک
ایسا کامل دین ہے جو انسان کے ظاہر و باطن،کردارواخلاق اور معاملات کو بھی حسن عطا
کرتا ہے ۔
اس دین
کامل کی تعلیمات میں سے تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔ سب سے پہلے ہم تواضع کا مطلب سمجھ لیتے ہیں ۔
تواضع کا معنی:تواضع کا معنی
ہے اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ،تکبر سے بچنا ،دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ۔
تواضع اختیار
کرنے کے فوائد:تواضع یعنی عاجزی نہ صرف معاشرتی حسن کو بڑھاتی ہے بلکہ ساتھ رہنے والوں جن
سے بندہ نرمی اختیار کرتا ہے ان کے دلوں میں مقام و مرتبہ بڑھتا ہے ۔ دینی و دنیاوی مقام و مرتبہ رکھنے والا شخص
اگر اپنے سے کمتر کے ساتھ نرمی کرتا ہے عاجزی اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ پاک کے یہاں
مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے ۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو !ہمارے اسلاف کا بھی یہی
طریقہ رہا ہے کے وہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ عاجزی و نرمی اختیار کرتے تھے جیسا
کے اس دور کے 15 پندرویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت سیدی وسندی شیخ کامل شیخ
طریقت امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ہی کو دیکھ لیں کے
آپ اپنے ماتحتوں کے ساتھ کتنی عاجزی و نرمی اختیار فرماتے ہیں ۔
قرآن کریم
میں تواضع یعنی عاجزی اختیار کرنے کے بارے میں بیان:اللہ پاک تواضع، عاجزی اختیار کرنے والے بندوں کا قرآن
پاک میں تذکرہ فرمایا ہے : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب
جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان،63)
صراط
الجنان:اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان
والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا
ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹،
ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت
نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو !تواضع یعنی عاجزی میں سے یہ بھی ہے کے جب آپ کسی سے بات کریں یا
کوئی اور آپ سے بات کرے تو آپ اس کی طرف پوری توجہ کریں اس کی طرف اپنا چہرہ کریں
اس کی پوری بات سنیں ۔ اس کی طرف بھی قرآن
کریم نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔
وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور
کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر
۔ (لقمان،18)
صراط
الجنان: جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے
والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ
اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش
آنا ۔
اسی طرح
ہمارے پیارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے بھی تواضع
عاجزی اختیار کرنے کا درس ملتا ہے کے آپ اپنے غلاموں سے کس طرح عاجزی اختیار
فرماتے اور عاجزی اختیار کرنے کی رہنمائی فرماتے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں بھی
تواضع اختیار کرنا نصیب فرمائے ۔
Dawateislami