انسان جب دنیا میں کامیابی کی تلاش کرتا ہے تو اکثر ظاہری اسباب اور مادی وسائل کو اہم سمجھتا ہے، لیکن قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی ان صفات میں ہے جو انسان کے دل کو نرم، فکر کو روشن  بناتی ہیں ۔  ان ہی میں سے ایک صفت تواضع ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے ۔

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( فرقان، آیت 63)

‎‎ صراط الجنان:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ زمین پر هَوْنًا یعنی نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ وہ تکبّر سے دُور رہتے ہیں، کسی پر برتری نہیں جتاتے ۔

(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنزُالایمان: اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ ( لقمان، آیت 18)

‎‎ تواضع کے فوائد:

1، اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: جس نے تواضع اختیار کی، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے ۔

2، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے عاجز شخص محبوب ہوتا ہے ۔

3، علم میں برکت آتی ہے کیونکہ متکبر علم نہیں سیکھتا ۔

4، معاشرتی سکون بڑھتا ہے تواضع والے لوگ اختلاف نہیں پھیلاتے ۔

تکبر سے اجتناب:قرآن میں تکبر کو شیطان کی صفت قرار دیا گیا ہے ۔ ابلیس نے جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو کہا: اَنَا خَیْرٌ مِّنْه ۔ ترجمہ کنز الایمان:میں اس سے بہتر ہوں ۔ (الاعراف،12)

‎‎ عملی زندگی میں تواضع:

بڑوں کے سامنے ادب، چھوٹوں پر شفقت ۔

اپنے علم، دولت یا مقام پر فخر نہ کرنا ۔

کسی نادان کے طعن پر صبر و سلام کہنا (جیسا کہ سورۃالفرقان میں حکم ہے) ۔

کامیابی کو اپنی محنت نہیں بلکہ اللہ کی عطا سمجھنا ۔

دوسروں کی رائے سننا اور غلطی مان لینا ۔