محمد
مبین عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
الحمد للہ
ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہماری ہر اعتبار سے رہنمائی فرماتا ہے چاہے اس
کا تعلق ہمارے اعمال ظاہرہ سے ہو یا باطنہ سے ہو اور اعمال باطنہ میں سے ایک عمل
تواضع یعنی خاکساری ،عاجزی بھی ہے یہ ہمارے دین میں مطلوب و محمود ہے اور اس کا
خلاف یعنی تکبر مذموم ہے اور اس تکبر کو چھوڑ دینا مطلوب ہے ۔
آخرت کا گھر: اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کے لیے قرآن
پاک میں کیا ہی پیاری بشارت ارشاد فرمائی:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمہ کنز
الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پارہ 20 ،قصص،آیت نمبر 83)
اس آیت کے
تحت صراط الجنان میں ہے:اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے
برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے
جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا
اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی
نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی طرح
تکبر کا اظہار نہ کرے ۔
مؤمنین عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں: اسی طرح
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں ایمان والے اور والیوں کے اوصاف حمیدہ
بیان فرمائے تو اس میں ایک یہ بھی وصف بیان فرمایا: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
ترجمہ کنز
الایمان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ۔
اور پھر ان کے لیے آگے انعام بھی کیا خوب ارشاد
فرمایا:-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا
عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنز الایمان: ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور
بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ ( پارہ 22 ،
احزاب آیت نمبر 33)
بلکہ اللہ
عزوجل نے اپنے بندوں کی ادائیں عاجزانہ
بھی بیان فرمائی:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ
کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
(پارہ 19 ،فرقان
آیت نمبر 63)
اس آیت کے
تحت تفسیر مدارک التنزیل میں ہے : اَیْ یَمْشُونَ
بِسَکِیْنَۃٍ وَ وَقَارٍ وَ تَوَاضُعٍ دُوْنَ مَرَحٍ وَ اِخْتِیَالٍ وَ تَکَبُّرٍ
۔ ترجمہ:
یعنی رحمٰن کے بندہ اطمینان وقار اور تواضع کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ اکڑتے ہوئے
اتراتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے چلتے ہیں ۔
کوئی کسی
پر فخر نہ کریں:حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے
مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکساری کرو حتّٰی کہ
تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے" ۔ (مسلم ،کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب
الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ الخ صفحہ 2198 حدیث 2865 دار الاحیاء التراث العربی)
حضور ﷺ کا تواضع: حضور ﷺ کی
زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہےاور حضور ﷺ کی پیروی کو ہمارے لیے بہترین
قرار دیا گیا اس لیے ہمارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے نہ صرف عاجزی کا حکم دیا
بلکہ ہمیں عاجزی کرکے بھی دیکھائی ۔ حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :حضور ﷺ نے ایک
جزام زدہ شخص کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالہ میں داخل کردیا اور
فرمایا کھاؤ اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل ۔
(سنن ابن
ماجہ کتاب المرض باب الجزام صفحہ1172 حدیث نمبر 3542 دار احیاء الکتب العربیہ)
اسلاف کا طرزِ عمل اور اقوال: اور ہمارے
اسلاف بزرگان دین اور وہ انعام یافتہ لوگ جن کے راستہ کو اللہ عزوجل نے صراط مستقیم
کا نام دیا اب ان کا طرز عمل اور تواضع کے متعلق اقوال ملاحظہ ہو جس کے ذریعے
ہمارے لیے مزید واضح ہو جائے کہ تواضع کیا ہے ۔ حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کیا تم جانتے کہ عاجزی کیا
ہے؟ عاجزی یہ کہ تم اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان کو دیکھو اسے اپنے سے افضل گمان
کرو ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1005مکتبۃ المدینہ)
حضرت مالک
بن دینار (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہے اگر کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر اعلان
کرے کہ تم میں سے جو برا ہے وہ باہر نکلے تو اللہ عزوجل کی قسم مجھ سے پہلے
کوئی نہیں نکلے گا مگر یہ کہ کوئی اپنی طاقت کے بل بوتے پر یا دوڑ میں مجھ سے سبقت
کر جائے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1006مکتبۃ المدینہ)
مال داروں کے سامنے عاجزی کرنا : حضرت یحییٰ
بن معین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مال کے ذریعے تکبر کرنے والوں پر تکبر کرنا
عاجزی ہے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 1008مکتبۃ المدینہ)
یہ حکم اس
لیے کہ وہ اپنے اس قبیح فعل سے باز آئے ۔ بلکہ حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے
تو عاجزی کی تعریف ہی یہ کی "مال داروں سے تکبر کرنا اور فقیروں سے انکساری
کرنا تواضع ہے" ۔ (رسالہ قشیریہ(مترجم)
صفحہ 344 )
Dawateislami