فیض
احمد ( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
تواضع
دراصل دل کی کیفیت ہے جس کے اثرات انسان کے گفتار، کردار، اور برتاؤ میں نمایاں
ہوتے ہیں ۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر
اہلِ ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی برتری کے احساس سے پاک رہیں، دوسروں کے
ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں ۔ اللہ پاك ارشاد
فرماتاہے:
(1) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)
(2) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)
ان آیت سے
معلوم ہوا کہ عاجزی و انکساری اختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک
بندو کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور
اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ جس سے
رب تعالی کی ذات پاک نے منع فرمایا ہے:
(3) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ
اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں
جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر انسان کے دل میں ایک
حجاب بن جاتا ہے جو اسے حق کو دیکھنے، سننے اور قبول کرنے سے روکتا ہے، جس کے نتیجے
میں وہ نصیحت سے محروم رہ کر مزید گمراہی میں چلا جاتا ہے ۔
(4) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمہ کنز
الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ تکبر اور فساد (بگاڑ) پھیلانا
انتہائی ناپسندیدہ اعمال ہیں، جن کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسان جنت جیسی عظیم
نعمت سے محروم ہو جائے ۔ اس کے برعکس،
عاجزی، اِنکساری (نرمی اور سادگی) اور معاشرے میں امن و سکون قائم کرنا ایسے
شاندار اعمال ہیں جن کی بدولت انسان جنت جیسی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔
لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتار اور
عمل سے کبھی بھی غرور کا اظہار نہ کرے، اور نہ ہی گناہوں، ظلم یا زیادتی کے ذریعے
معاشرے میں بے چینی اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ خود کو بڑا سمجھنے، غرور کرنے، یا اِترا کر چلنے سے
انسان کی حقیقی شان بڑھتی نہیں ہے ۔ مال و دولت،
اولاد کی کثرت، یا بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے سے عزت، عظمت اور شان و شوکت میں کوئی
اضافہ نہیں ہوتا ۔ حقیقی عزت اور بلندی صرف وہی پاتا ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا
ہے ۔ اور اللہ پاک یہ عزت اور بلندی صرف
اُسے دیتا ہے جو عاجزی اور اِنکساری اختیار کرتا ہے جیساکہ نبی کریم علیہ السلام
کا فرمان ہے "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ
مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ" یعنی"وہ شخص
جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر (غرور) ہوگا
۔
لہذا غرور اور فساد سے بچیں، عاجزی اور امن کو اپنائیں،
کیونکہ حقیقی عزت اور جنت کا راستہ اسی میں ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔
محمد
زین العابدین عطاری ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانوں کو کامیابی اور رہنمائی کے بارے میں قرآن مجید میں بارہا واضح انداز میں
ذکر فرمایا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ
انسان اپنی زندگی کو کس طرح باوقار اور کامیاب بنا کر گزار سکتا ہے ۔
تواضع کا
لغوی و اصطلاحی مفہوم: لغوی معنی: عاجزی اور انکساری اختیار کرنا ۔ اصطلاحی معنی: آپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ
سمجھنا، عاجزی و انکساری آپنانا اور غرور و تکبر سے بچنا ۔
تواضع اختیار
کرنا:تواضع کا تعلق انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی تعلیم حاصل
کرنا اور اس کے مخالف رویوں سے بچنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تواضع
اختیار کرنے اور تکبرانہ چال و ڈھال سے منع فرمایا:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ
مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ
کنزالعرفان: اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر
کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمان: 18، پ 21)
تواضع کے
فضائل:تواضع اختیار کرنے والوں کے فضائل خود قرآن پاک میں بیان کیے گئے ہیں:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (فرقان،63)
کامل ایمان
والے اپنے نفس کے ساتھ ایسا معاملہ رکھتے ہیں کہ وہ وقار اور اطمینان کے ساتھ،
عاجزانہ انداز میں زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ وہ متکبرانہ انداز میں جوتے کھٹکھٹاتے یا پاؤں زور سے مارتے ہوئے نہیں چلتے
۔
(مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: 63، ص 809، ملخصاً)
تواضع کا
معاشرتی کردار: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنزُالعِرفان:
اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل ۔
(الاسراء،
37)
یاد رکھیں
کہ فخر و تکبر کی چال، متکبرین کی نشست و برخاست، اور خودنمائی کے انداز سب ممنوع
ہیں ۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور
گفتگو میں تواضع اور انکساری ہونی چاہیے ۔ بات چیت نرم ہو، چال میں وقار ہو، اور انداز متواضع ہو ۔ متکبرانہ اور غیر مہذب چال اللہ تعالیٰ کو ناپسند
ہے ۔
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عقائد و عبادات کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت،
رہن سہن اور طرزِ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر گوشے سے اسلامی اقدار کی
جھلک نظر آنی چاہیے ۔ افسوس ان مسلمانوں پر جو کفار کے طور طریقوں پر عمل کرنے میں
فخر محسوس کرتے ہیں اور اسلامی طریقے آپنانے میں شرماتے ہیں ۔
(صراط
الجنان، پ 15، سورۃ الاسراء، آیت 37-38)
محمد
ہارون ( درجۂ سابعہ مرکز ی جامعۃُ
المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
تواضع
(عاجزی، انکساری) اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے ۔ قرآن مجید میں تواضع کو ایک مومن کی اہم ترین
صفات میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے برخلاف تکبر کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ تواضع دراصل بندگی کی علامت ہے، جو انسان کو
خالق کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ نرمی و ادب کے ساتھ پیش آنے پر آمادہ کرتی
ہے ۔
تواضع کا
مفہوم:تواضع کا لغوی مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا، عاجزی اختیار کرنا ۔
اصطلاحاً: دوسروں کے مقابلے میں
خود کو کم تر سمجھنا، بغیر تکبر و رعونت کے نرمی، اخلاق اور انکساری سے پیش آنا ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر
آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے
نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان
سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں
زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں
اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں
پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
سکون اور
وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و
اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث
ملاحظہ ہوں :
(1)حضرت عبداللہ بن
عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی
نیکی نہیں ہے ۔ ( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ
عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ
الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
(3)حضرت
انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز
العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء
الخامس عشر)
اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کواس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ
طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے
جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔
تواضع ایک
ایسا وصف ہے جو ہر نبی ہر ولی کی شان رہا ہے اور انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب
بناتا ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے، اور انسان کے اخلاق کو نکھارتا ہے
۔ غرور و تکبر انسان کو گرا دیتا ہے، لیکن
تواضع اسے بلند کر دیتا ہے ۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ "زمین میں اکڑ کر مت
چلو"تواضع صرف لباس یا چال ڈھال کا نام نہیں، بلکہ دل کا جھکاؤ، زبان کی نرمی،
دوسروں کی عزت اور اپنی بڑائی کو نہ جتانے کا نام ہے ۔
آج کے اس
دورِ تکبر، دکھاوے اور انا پرستی میں تواضع اپنانا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ
معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ
عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز
الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر
جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم
ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
: ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی،
القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے
برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی
عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
حضرت عیاض
بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی
فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب
الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث:
۶۴(۲۸۶۵))
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز
العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو
بچھا دو: یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ
مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان
کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح
رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
(صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا آپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
سکون اور
وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و
اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی
گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)حضرت
عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا)
ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔
( بخاری،
کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر
جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
(3)حضرت
انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو
ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء
الخامس عشر)
تُو چھوڑ
دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی
ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضع
زندگی کا
اصل حسن دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپا ہے جب انسان اپنی
بڑائی بھول کر دوسروں کو مقام دیتا ہے ۔
دلوں پر حکومت وہ نہیں کرتا جو تخت پر بیٹھتا ہے، بلکہ وہ کرتا ہے جو جھک
کر دوسروں کے دل جیت لیتا ہے ۔ یہی جھکنا، یہی نرم مزاجی، یہی انکساری دراصل تواضع
ہے ۔ ایک ایسی صفت جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور
بندے کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے ۔ تواضع وہ آئینہ ہے جس میں بندہ اپنے عیب دیکھتا
ہے اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہتا ہے ۔ یہ
وہ خوشبو ہے جو صرف متکبر دلوں میں نہیں بس سکتی ۔ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس
کے مقام کو بلند کر دیتا ہے ۔
"تواضع"
کے معنی عاجزی، انکسار، فروتنی ہیں ۔ اس
کے دیگر معنوں میں آؤ بھگت، مہمان نوازی، اور دوسروں کا احترام کرنا شامل ہیں
۔ ایک اور معنی میں حق کے آگے سر تسلیم خم
کرنا یا خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنا بھی شامل ہے ۔
قرآن کریم
سے تواضع کا بیان:قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر اللہ پاک نے تواضع یعنی(عاجزی و انکساری)کے
متعلق بیان فرمایا ہے، آئیے اس کو بھی ملاحظہ کرتے ہیں: اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے:
(1)وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃالفرقان،63)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے
اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
(2)وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔
(بنی
اسرائیل،37،38)
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:ترجمہ کنز
العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل:
یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور
متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو
اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے
بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی
جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے
میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے
ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو
۔
حدیث مبارک
میں بھی تواضع اختیار کرنے اور تکبر و غرور سے بچنے کا حکم موجود ہے چنانچہ،
(1)حضرت عیاض
بن حِمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ رسالت ﷺ َ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ
تم لوگ عاجزی اختیار کرو اورتم میں سے کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے ۔
( ابن
ماجہ، کتاب الزہد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، ۴ / ۴۵۹، الحدیث: ۴۱۷۹)
تواضع عربی زبان میں عاجزی و انکساری کو کہتے ہیں ۔ تواضع کی تعریف یہ ہے
کہ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان کے لئے نرمی کا پہلو
اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و اِنکساری
کہلاتا ہے ۔ عاجزی کی ضد تکبر (یعنی حق کی
مخالفت کرنا اوردوسروں کو حقیر جاننا) ہے ۔
اپنے آپ
کو تکبر سے بچانا اور عاجزی وانکساری اختیار کرنا ہر مسلمان پر لازم ہےاگر عاجزی ایسی
ہو کہ جس میں میانہ روی ہو یعنی اپنے ہم پلہ اور کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ برابر کی
عاجزی کرے، نہ تو خود کو ذلت وکمینگی والی جگہ پر پیش کرے، نہ ہی بلندی کی طرف میلان
ہو تو ایسی عاجزی شرعاً محمود، باعث اَجروثواب اور جنت میں لے جانے والا کام ہے
۔ یہ ایک ایسی صالحانہ خصلت ہے جس کے ذریعہ اخوت،الفت و محبت اور عدل و مساوات کے پیغام کو عام کیا جا سکتا ہے،یہی وجہ
ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمن کے بندے کہ زمین پر
آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)
اس کے تحت
تفسیر نسفی میں ہے: یعنی وہ لوگ سکون اور
وقار کے ساتھ عاجزانہ انداز میں زمین پر
چلتے ہیں تکبر اور بڑھائی کی وجہ سے پاوں
زور سے مارتے ہوئے آپنے جوتے نہیں چٹخاتے ۔
اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ اسی طرح
رب ذوالجلال نے اپنے حبیب ﷺ کو تواضع کی
رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالایمان: اور
مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے
لو ۔ (الحجر: ۸۸)
یعنی ا ے
حبیب! صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس
طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ /۱۰۵۱ )
نبی
اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ،
إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ یعنی مال
سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے
سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے بندے کی تواضع و
انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے ۔ (مسلم:باب استحباب العفو و
التواضع،رقم الحدیث۶۵۸۶ )
حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام و مرتبہ پر ہو تواضع اختیار
کرنے سے اس کے مقام میں کمی نہیں آئے گی بلکہ تواضع و انکساری کی
وجہ سے انسان کا درجہ و فضیلت کو اللہ رب العزت نہ صرف اپنے حضور بڑھاتا ہے بلکہ
لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و تکریم میں مزید اضافہ کردیتا ہے اسے عاجزی و انکساری
کی بنا پر وہ فضیلت اور بلندی عطا کرتا ہے جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں
کرسکتا تھا ۔
تواضع اختیار
کرنا سرکار ﷺ کے اخلاق کریمہ کا حصہ ہے چنانچہ حضرت ابو
امامہ بیان کرتے ہیں: خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا
فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ:لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا
بَعْضًا ترجمہ : رسول اللہ ﷺ عصا مبارک کا سہارا لیے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو
ہم سب آپ کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ آپﷺ نے
فرمایا: عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہوا کرو اس لیے وہ یونہی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں
۔ (سنن ابی
داؤد: ۵/۳۹۸)
منع کرنے کی وجہ یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں تو ایک بندہ ہوں میں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے
کوئی عام آدمی کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی بیٹھتا ہے ۔
آپ نے
اپنی ذات کے لیے قیام کرنے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور اپنے خلق عاجزی و انکساری
کی بنا پر منع کردیا ۔ حضور اقدس ﷺ کے
اس عمل سے امت کو یہ تعلیم ملتی ہےکہ کوئی بھی داعی ہو، مقرر ہو، معلم و قائد ہو،
راہنما و رہبر ہو اس کی ذاتی خواہش نہ ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اس کا احترام
بجا لائیں ۔ نیز تواضع تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیاء عظام کی
راہ ہے جبکہ تکبر و غرور شیطان،فرعون اور قارون کا ورثہ ہے جیساکہ سورہ مریم میں
اللہ پاک حضرت یحی علیہ السلام کی اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا(۱۴)اور وه متكبر ،نافرمان نہیں تھا ۔ (مریم،14)
بلکہ آپ علیہ
السلام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرنے والے تھے
۔
محمد نعمان مصطفیٰ ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ عزوجل
کی ذات نے ہمیں تخلیق فرمایا اور انسان کو
عبادت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور تواضع کا حکم دیا قرآن مجید میں رب العالمین کی
ذات نے ارشاد فرمایا
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان،63)
(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے
گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔
(بنی
اسرائیل،37،28)
صراط الجنان :وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے
نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (لقمن،18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔
محمد
عامر بن محمد یعقوب (درجۂ سابعہ جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ
زار لاہور ، پاکستان)
تواضع
انسان کی وہ عظیم صفت ہے جو اسے غرور،تکبر اور خود پسندی سے بچاتی ہے یہ اخلاق
وحسن کی بنیاد اور ایمان کی علامت ہے قرآن مجید نے جگہ جگہ عاجزی وانکساری کو پسندیدہ
اور تکبر کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے اللہ
تعالیٰ کے نزدیک وہی بندہ محبوب ہی جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتا اور اپنے
رب کے حضور جھکنے میں فخر محسوس کرتا ہے ۔
تواضع کی
حقیقت:لفظ "تواضع"عربی مادہ "وضع"سے ماخوذ ہے جس کے معنی نیچے
جھکنے کے ہیں اصطلاحاً تواضع سے مراد انسان کا اپنی حقیقت پہچاننا،دوسروں کے حقوق
کا خیال رکھنا،نرم مزاجی اور عاجزی سے پیش آنا ۔ یہ خوبی انسان کے باطن کی پاکیزگی کی علامت ہے،کیونکہ کہ جو دل غرور سے
خالی ہوتا ہے وہی دل حقیقی ایمان کا گھر بن سکتا ہے ۔
قرآن مجید
میں تواضع کی تعلیم:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تواضع کو مومن کی نمایاں صفت قرار دیا ہے اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے
گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل پارہ 15)
وضاحت:یہ
آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کتنا کمزور اور محتاج ہے لہذا تکبر اس کی شایان
شان نہیں ۔
اسی طرح
قرآن مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان، پارہ 19)
انبیاء
کرام کی تواضع:حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے زیادہ علم والے بندے حضرت خضر علیہ السلام
کے پاس علم حاصل کرنے گئے حالانکہ وہ خود اللہ پاک کے برگزیدہ نبی ہے ۔
حضرت سلیمان
علیہ السلام جنہیں بادشاہت اور اقتدار دیا گیا وہ فرماتے ہے: قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ
ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُترجمہ کنزالایمان:کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے
تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ۔ (آیت 40 سورۃ النمل پارہ 19)
اور خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تواضع تو بے مثال ہیں :آپ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کبھی کسی سے گفتگو میں تکبر نہیں کرتے تھے ،غریبوں کے ساتھ بیٹھتے بچوں کو
سلام کرتے اور غلاموں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے ۔
تواضع وہ
صفت ہے جو انسان کو خالق اور مخلوق دونوں کے قریب کر دیتی ہے ۔ تکبر انسان کو ذلیل
کر دیتا ہے جبکہ عاجزی عزت عطا کرتی ہے قرآن مجید کی تعلیمات بھی ہمیں یہی پیغام دیتی
ہیں کہ حقیقی بلندی جھکنے میں ہی ہے نہ کہ غرور میں ۔ جو شخص آپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرتا
ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت میں سرخرو کر دیتا ہے ۔
محمد
لقمان (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلام کی
روشن اور جامع تعلیمات میں ایک نہایت حسین اور اہم پہلو تواضع و انکساری کا ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو عاجزی و انکساری
اور نرمی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے ۔ یہ
وہ پاکیزہ صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی، دلوں میں محبت پیدا کرتی اور
معاشرے میں اخوت و احترام کی فضا قائم کرتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بندگانِ خدا کی اس خوبی کو نہایت دلکش پیرائے
میں بیان کیا ہے، آیئے تواضع کے بارے میں
جانتے ہیں کہ وہ کیا ہے ۔
عاجزی
وانکساری کی تعریف :لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا
پہلو اختیار کرنا اور آپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری
کہلاتا ہے ۔
(نجات
دلانےوالے اعمال کی معلومات صفحہ نمبر 81 )
اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں
کئی مقامات پر عاجزی کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ۔
(1) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ
آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور
عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت
کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی
چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے
ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
:83)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا
اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ
جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان آیت نمبر 18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن،
لقمان، تحت الآیۃ: 18، ،3 ۔ 71، ملتقطاً)
قرآن کریم
کی ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تکبر و غرور انسان کو ہلاکت کی طرف
لے جاتے ہیں، جبکہ عاجزی و انکساری بندے کو اللہ تعالیٰ کے قرب اور جنت کی نعمتوں
تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ جو شخص اپنے
رب کے سامنے جھک جائے، مخلوق کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرے، وہی دراصل حقیقی
مومن ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل
و دماغ سے تکبر کے ہر خیال کو مٹا کر تواضع، نرمی اور ادب کو اپنی زندگی کا حصہ
بنائیں تاکہ ہم دنیا میں بھی محبوبِ خدا بنیں اور آخرت میں کامیابی و فلاح پائیں ۔
تواضع ایک
اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی ہے اور اسے لوگوں کے دلوں میں
محبوب بنا دیتی ہے ۔ یہ لفظ عربی ”وضع “
سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں” جھک جانا” یا “اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا“ ۔ اسلامی
تعلیمات میں تواضع کو بہت اہم مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ صفت انسان کو غرور و تکبر
سے بچاتی ہے اور بندگی کے اصل مفہوم تک پہنچاتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد
باری تعالی ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان:63)
ارشاد باری
تعالیٰ : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (نحل،23)
اگر ہم سیرت
النبی ﷺ اٹھا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ کس طرح امت کو تواضع کی تعلیم دی ہے ۔ ایک
مرتبہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا، اے مخلوق میں سب سے اعلی وارفع ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درجے میں تو ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ (صحیح مسلم: ۴/۱۸۳۹، رقم الحدیث:
۲۳۶۹)
حضرت لقمان
رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو تواضع کی تعلیم دیتے ارشاد فرمایا ، کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔
( مدارک،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب
اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی
ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات
چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح
امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا
چاہئے ۔
(2) عاجزی
اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا ’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی
بری ہو جاؤ گے ۔
(کنز
العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث)
امام حسین
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی عاجزی:ایک مرتبہ امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ کا گزر چند مسکینوں کے پاس سے ہوا،
وہ لوگ کچھ کھا رہے تھے ، انہوں نے حضرت امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
کو دیکھ کر کہا ’’اے ابو عبد اللہ ! آپ
بھی یہ غذا کھا لیجئے ۔ امام حسین رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی سواری سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا ’’اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ‘‘ یعنی بیشک
اللہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ پھران کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو ان مسکینوں سے فرمایا ’’میں نے تمہاری دعوت قبول کی ہے اس لئے اب تم میری
دعوت قبول کرو، چنانچہ وہ تمام مسکین امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے
ساتھ ان کے درِ دولت پر گئے ،امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں کھانا کھلایا ، پانی پلایا اور انہیں کچھ عطا فرمایا، فراغت کے بعد وہ سب وہاں سے چلے گئے(صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۱۰۶۱) ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹،
ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت
نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد
باری تعالٰی ہے: وَ لَا
تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ
الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
عدیل
بن رمضان عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، اور اخلاق کی سب سے
خوبصورت صورت تواضع یعنی انکساری ہے ۔
قرآن مجید نے بارہا ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بڑائی اللہ کے لیے ہے، انسان کے
لیے نہیں ۔ جب بندہ اپنی حیثیت کو پہچان لیتا
ہے اور دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور ادب سے پیش آتا ہے تو یہی اس کی حقیقی بلندی
ہے ۔
فرمانِ
مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہُ یعنی جواللہ پاک کیلئے
عاجِزی کرتا ہے اللہ پاک اُسے بُلندی عطا فرماتا ہے ۔ ( شُعَبُ الْاِیمان ج 4 ص174 حدیث نمبر 814)
(1)قرآن میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔
ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ( پارہ نمبر 19 سورة الفرقان: 63)
یعنی
"رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ "
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا بھی نام ہے ۔ جس دل میں تواضع آ جائے، وہاں تکبر کی گنجائش
نہیں رہتی ۔ تواضع دراصل ایمان کا حسن ہے،
جو انسان کو خالق سے قریب کرتا ہے ۔
(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے
ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمن،18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( صراط الجنان پارہ 21 ،لقمن،آیت نمبر 18)
(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)
صراط
الجنان:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین
میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود
نمائی سے نہ چل ۔ (تفسیر صراط الجنان پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 37)
(4) لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔
صراط
الجنان:لَا جَرَمَ: حقیقت یہ ہے : یعنی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے
انکار اور ان کے غرور و تکبر کو جانتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔
(حوالہ تفسیر
صراط الجنان پارہ 14 سورہ النحل آیت نمبر 23)
محمد جمیل عطاری ( درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع (عاجزی) کی تعریف:تواضع کا مطلب ہے اپنے
آپ کو بڑا نہ سمجھنا، دوسروں کے ساتھ نرمی، انکساری اور ادب سے پیش آنا، خواہ کوئی
مال و علم یا مرتبے میں کم ہو ۔ اسلام میں تواضع ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے، جو
تکبر کے بالکل برعکس ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول ﷺ نے تواضع اختیار کرنے کی تاکید کی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ
جیسا عظیم مرتبہ رکھنے والا، اگر عام عورت کے ساتھ بھی زمین پر بیٹھ کر بات کرتا
ہے تو یہ عاجزی کی بلند ترین مثال ہے ۔ تواضع انسان کو اللہ کے قریب، لوگوں میں
محبوب، اور اخلاقی طور پر بلند مقام پر پہنچاتی ہے ۔ یہ انبیاء، صحابہ، اور اولیاء کی سنت ہے ۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں تکبر چھوڑ کر عاجزی
اختیار کرنی چاہیے ۔
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( سورۃ
الفرقان ،آیت 63)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
(2) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز
الایمان: اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو (تابع)مسلمانوں کے لیے ۔ ( سورۃ الشعراء ، آیت 215 )
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان ، آیت 18 )
اکڑ کر
چلنے کی مذمت: آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل حدیث ملاحظہ ہوں
:
(1) حضرت
عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا
سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر
ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، 2 / 461، الحدیث: 6002)
(4) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء ،آیت 37 )
یہ آیات
تواضع کی اہمیت اور تکبر کی مذمت کو واضح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچتے
ہوئے عاجزی اختیار کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami