اسلام کی روشن اور جامع تعلیمات میں ایک نہایت حسین اور اہم  پہلو تواضع و انکساری کا ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو عاجزی و انکساری اور نرمی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے ۔ یہ وہ پاکیزہ صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی، دلوں میں محبت پیدا کرتی اور معاشرے میں اخوت و احترام کی فضا قائم کرتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بندگانِ خدا کی اس خوبی کو نہایت دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے، آیئے تواضع کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کیا ہے ۔

عاجزی وانکساری کی تعریف :‏لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور آپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔

(نجات دلانےوالے اعمال کی معلومات صفحہ نمبر 81 )

اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر عاجزی کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ۔

(1) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ :83)

تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔

(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان آیت نمبر 18)

صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: 18، ،3 ۔ 71، ملتقطاً)

قرآن کریم کی ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تکبر و غرور انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ عاجزی و انکساری بندے کو اللہ تعالیٰ کے قرب اور جنت کی نعمتوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ جو شخص اپنے رب کے سامنے جھک جائے، مخلوق کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرے، وہی دراصل حقیقی مومن ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل و دماغ سے تکبر کے ہر خیال کو مٹا کر تواضع، نرمی اور ادب کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہم دنیا میں بھی محبوبِ خدا بنیں اور آخرت میں کامیابی و فلاح پائیں ۔