اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایک دوسرے کے لیے سہارا اور ذریعۂ راحت بنایا ہے۔ ہر شخص کی کچھ ضروریات اور حقوق ہوتے ہیں، جن کی ادائیگی معاشرتی توازن کو قائم رکھتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص دوسرے کو اس کے حق سے محروم کرتا ہے، خواہ وہ مال ہو، محبت ہو، عزت ہو یا علم، تو یہ عمل صرف ظلم ہی نہیں بلکہ اخلاقی، دینی اور انسانی لحاظ سے بھی شدید مذمت کے لائق ہے۔

کسی کو محروم کرنا صرف یہ نہیں کہ آپ اس سے کوئی چیز چھین لیں، بلکہ یہ بھی محرومی ہے کہ آپ کسی کو اس کا جائز مقام نہ دیں، اس کی قابلیت کو دبا دیں، یا اس کے ساتھ حسد، بغض، یا خود غرضی کی بنیاد پر ناانصافی کریں۔ یہ وہ روش ہے جو معاشروں کو توڑ دیتی ہے، دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہے اور افراد کو محرومی و احساس کمتری کی گہری کھائی میں دھکیل دیتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔

یہ آیت حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو دی گئی نصیحت کا حصہ ہے، جس میں ماپ تول میں کمی اور دوسروں کے حقوق دبانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ آیت صرف مالی معاملات کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس پہلو پر لاگو ہوتی ہے جہاں کسی کو اس کے حق سے محروم کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)

اور کسی کو محروم کرنا دراصل اس پر ظلم کرنا ہے۔ چاہے وہ تعلیم سے ہو، روزگار سے، میرٹ سے، یا محبت و توجہ سے۔

محرومی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ دل توڑتی ہے۔ کسی کو اس کی محنت کے باوجود کامیابی سے محروم کرنا، کسی ضرورت مند کو مدد کے قابل ہوتے ہوئے بھی نظر انداز کرنا، کسی اہل شخص کو اس کے مقام سے روک دینا، یہ سب محرومی کی وہ شکلیں ہیں جو معاشرے میں حسد، بغض، بغاوت، اور بے چینی کو جنم دیتی ہیں۔

اسلام ہمیں عدل، احسان اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کو ان کا حق دے، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے، اور کبھی ذاتی مفاد یا حسد کی بنا پر کسی کو پیچھے نہ رکھے۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے کسی عمل، فیصلے یا رویے سے کوئی شخص محروم ہو رہا ہے، تو ہم کس قدر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دنیا تو فانی ہے، لیکن کسی مظلوم کی آہ اور کسی محروم کا دکھ ربّ کے ہاں بہت وزنی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انصاف، ہمدردی، اور حق پسندی کو اپنی سوچ کا حصہ بنائیں۔ دوسروں کو ان کا حق دے کر، ان کی صلاحیتوں کو آگے لا کر، اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت و بڑوں کے ساتھ عدل سے پیش آ کر ہی ہم ایک خوشحال اور متوازن معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔