تواضع ایک
اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی ہے اور اسے لوگوں کے دلوں میں
محبوب بنا دیتی ہے ۔ یہ لفظ عربی ”وضع “
سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں” جھک جانا” یا “اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا“ ۔ اسلامی
تعلیمات میں تواضع کو بہت اہم مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ صفت انسان کو غرور و تکبر
سے بچاتی ہے اور بندگی کے اصل مفہوم تک پہنچاتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد
باری تعالی ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان:63)
ارشاد باری
تعالیٰ : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (نحل،23)
اگر ہم سیرت
النبی ﷺ اٹھا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ کس طرح امت کو تواضع کی تعلیم دی ہے ۔ ایک
مرتبہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا، اے مخلوق میں سب سے اعلی وارفع ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درجے میں تو ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ (صحیح مسلم: ۴/۱۸۳۹، رقم الحدیث:
۲۳۶۹)
حضرت لقمان
رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو تواضع کی تعلیم دیتے ارشاد فرمایا ، کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔
( مدارک،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب
اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی
ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات
چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح
امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا
چاہئے ۔
(2) عاجزی
اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا ’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی
بری ہو جاؤ گے ۔
(کنز
العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث)
امام حسین
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی عاجزی:ایک مرتبہ امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ کا گزر چند مسکینوں کے پاس سے ہوا،
وہ لوگ کچھ کھا رہے تھے ، انہوں نے حضرت امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
کو دیکھ کر کہا ’’اے ابو عبد اللہ ! آپ
بھی یہ غذا کھا لیجئے ۔ امام حسین رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی سواری سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا ’’اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ‘‘ یعنی بیشک
اللہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ پھران کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو ان مسکینوں سے فرمایا ’’میں نے تمہاری دعوت قبول کی ہے اس لئے اب تم میری
دعوت قبول کرو، چنانچہ وہ تمام مسکین امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے
ساتھ ان کے درِ دولت پر گئے ،امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں کھانا کھلایا ، پانی پلایا اور انہیں کچھ عطا فرمایا، فراغت کے بعد وہ سب وہاں سے چلے گئے(صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۱۰۶۱) ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹،
ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت
نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد
باری تعالٰی ہے: وَ لَا
تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ
الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
Dawateislami