پیارے پیارے اسلامی بھائیو! انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، اور اخلاق کی سب سے خوبصورت صورت تواضع یعنی انکساری ہے ۔  قرآن مجید نے بارہا ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بڑائی اللہ کے لیے ہے، انسان کے لیے نہیں ۔ جب بندہ اپنی حیثیت کو پہچان لیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور ادب سے پیش آتا ہے تو یہی اس کی حقیقی بلندی ہے ۔

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہُ یعنی جواللہ پاک کیلئے عاجِزی کرتا ہے اللہ پاک اُسے بُلندی عطا فرماتا ہے ۔ ( شُعَبُ الْاِیمان ج 4 ص174 حدیث نمبر 814)

(1)قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ( پارہ نمبر 19 سورة الفرقان: 63)

یعنی "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ "

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا بھی نام ہے ۔ جس دل میں تواضع آ جائے، وہاں تکبر کی گنجائش نہیں رہتی ۔ تواضع دراصل ایمان کا حسن ہے، جو انسان کو خالق سے قریب کرتا ہے ۔

(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمن،18)

صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( صراط الجنان پارہ 21 ،لقمن،آیت نمبر 18)

(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

صراط الجنان:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل ۔ (تفسیر صراط الجنان پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 37)

(4) لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔

صراط الجنان:لَا جَرَمَ: حقیقت یہ ہے : یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے انکار اور ان کے غرور و تکبر کو جانتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔

(حوالہ تفسیر صراط الجنان پارہ 14 سورہ النحل آیت نمبر 23)

جس نے جھکنا سیکھ لیا، اللہ نے اُسے اٹھا لیا ، یہی قرآن کا پیغام اور مصطفیٰ ﷺ کی تعلیم ہے ۔ غرور انسان کو گرا دیتا ہے، مگر عاجزی اُسے آسمانِ عزت تک پہنچا دیتی ہے ۔ آؤ! ہم اپنے دلوں سے تکبر کے کانٹے نکال کر انکساری کے پھول بوئیں ۔ اللہ پاک ہمیں عاجزی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔