محمد نعمان مصطفیٰ ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ عزوجل
کی ذات نے ہمیں تخلیق فرمایا اور انسان کو
عبادت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور تواضع کا حکم دیا قرآن مجید میں رب العالمین کی
ذات نے ارشاد فرمایا
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان،63)
(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے
گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔
(بنی
اسرائیل،37،28)
صراط الجنان :وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے
نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (لقمن،18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔
Dawateislami