غلام
محمد ( دورہ حديث جامعۃُ
المدينہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
تواضع کا
لغوی معنی: اپنے آپ کو جھکانا، یا خود کو
بڑا ظاہر نہ کرنا ۔
تواضع کا اصطلاحی معنی: علماء کے نزدیک
تواضع کا مطلب ہے: اپنے نفس کو دوسروں پر
برتر نہ سمجھنا، لوگوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنا، اور حق کو قبول کرنا خواہ وہ
کسی چھوٹے سے ہی کیوں نہ ہو ۔
ہر بندے کو
چائیے کہ عاجزی کا دامن تھامے رکھے ۔ کیونکہ
تکبر کرنا صرف الله سبحانہ وتعالیٰ کی صفت ہے ۔ آئیے قرآنی آیات سے تواضع و عاجزی کے بارے میں سنتے ہیں ۔ الله تعالیٰ فرماتا:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنزالعرفان :رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ (الفرقان 63)
تفسیر صراط الجنان :هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور
شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ
ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:37)
سکون اور
وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب ہے ۔ اس آیت
سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث
میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے:
(1)حضرت
عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا)
ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔
( بخاری،
کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، 1/ 558)
اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت
کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور
اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔
وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے
ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمن،18)
تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔
لہذا کوئی
شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا
چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے
انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات
چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح
امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا
چاہئے ۔
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی ہر پہلو سے سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے
۔ قرآن کریم میں بارہا ایسے اخلاقِ حسنہ
کا ذکر ملتا ہے جن سے ایک مؤمن کی شخصیت نکھرتی ہے ۔ انہی صفاتِ حمیدہ میں سے ایک عظیم صفت
"تواضع" یعنی انکساری ہے ۔ تواضع نہ صرف اخلاقی بلندی کی علامت ہے بلکہ یہ انسان کو تکبر، غرور، اور
خود پسندی جیسے روحانی امراض سے بچاتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر اہلِ ایمان کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین
فرمائی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ مبارکہ میں اس صفت کو عملی طور پر
نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے ۔ تواضع
انسان کے دل کو پاکیزگی، عمل کو اخلاص، اور تعلقات کو محبت عطا کرتی ہے ۔ یہی وہ خُلق ہے جس کے باعث ایک انسان اللہ تعالیٰ
کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے، چاہے دنیاوی حیثیت میں وہ عام انسان ہو ۔ یہ تمہید اس بات کا آغاز ہے کہ ہم قرآنی آیات
کی روشنی میں تواضع کے مفہوم، اہمیت اور عملی نمونوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان آیت نمبر 63)
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنز
الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص آیت نمبر 83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت
جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم
ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
: ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی،
القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ
کنز الایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔
(بنی اسرائیل37،38)
اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا
ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ
لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہماری آیتوں پر وہی ایمان
لاتے ہیں کہ جب وہ اُنہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی
تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔
(السجدہ آیت
نمبر 15)
تواضع ایک
ایسا عظیم وصف ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور بندوں میں محبوب بناتا ہے ۔ قرآن کریم نے تواضع اختیار کرنے والوں کے لیے
بشارتیں سنائی ہیں اور انہیں بلند درجات کا وعدہ دیا ہے ۔ یہی صفت انبیاءِ کرام، صحابہ کرام اور اولیائے
صالحین کی زندگیوں کا خاصہ رہی ہے ۔ تواضع
انسان کے اخلاق کو نرمی، عاجزی اور محبت سے بھر دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل سے تکبر نکال کر عاجزی
کو اپنائیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی شخصیت سنواریں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی تواضع اختیار
کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
محمد
حمزہ رضا (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
قرآن مجید
میں انسان کو جن اعلی اخلاقی و اوصاف سے مزین ہونے کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک
نمایاں وصف تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔
تواضع کے
لغوی: معنی ہیں جھک جانا وغیرہ تواضع سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے
برتر نہ سمجھا جائے اور تکبر سے بچا جائے ۔ عاجزی و انکساری انسان کی ایک بڑی اخلاقی خوبی ہے ۔ قرآن پاک میں جابجا
تواضع کی تعلیم دی گئی ہے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے کلام قرآن مجید میں
تکبر کی مذمت فرمائی اور تواضع اختیار
کرنے کی ترغیب دی ہے۔
مومنین کی نمایاں خوبی تواضع : اللہ
تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں جہاں کامل مومنین کے اوصاف گنوائے تو وہاں ایک وصف تواضع کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (۶۳)ترجمۂ کنز العرفان : اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان:63)
تفسیر صراط
الجنان میں ہے: کہ اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان
وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں متکبرانہ طور پر جوتے
کھٹکھٹاتے پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے
اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ان افعال کے ساتھ نہیں چلتے کیونکہ یہ متکبرین کی شان
نہیں ۔ (صراط الجنان:تحت الآیت 63)
ر مبشر
عبدالرزاق عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ پاک کا کلام اور رشد و ہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے جو ہر شے کا واضح بیان ہے
قرآن پاک نے جس طرح حلال و حرام کے احکام گزشتوں امتوں کے واقعات کو بیان فرمایا
اسی طرح نیک لوگوں کے وہ عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال و عادات بھی بیان فرمائی جن کے
ذریعے وہ بندہ اپنے رب کا قرب اور دنیاوی و اُخروی ترقی پر گامزن ہو جاتا ہے انہی میں سے ایک نیک
عمل تواضع (عاجزی) بھی ہے ۔
پیارے
اسلامی بھائیوں ایک مسلمان کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ
نیک اعمال رضا الٰہی حاصل کرنے ،رحمت الہی پانے نجات دلانے اور جنت میں لے جانے کا
بڑا سبب ہیں آئیے ہم بھی تواضع و انکساری کا قرآنی بیان پڑھتے اور علم و عمل کے نیت
کرتے ہیں ۔
تواضع کی
تعریف: لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا
پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا تواضع یعنی عاجزی
وانکساری کہلاتا ہے ۔ (لباب الاحیاء
صفحہ238)قرآن پاک کے متعدد مقامات پر تواضع و عاجزی کا بیان ملتا ہے آئیے ہم بھی
پڑھتے ہیں :
1: انبیاء
کرام کی سنت : اللہ پاک کو رغبت و ڈر سے پکارنا اور تواضع و عاجزی اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام
کی سنت مبارکہ ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ
وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰)ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی
کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ (پ
17 الانبیاء 90)
2:کامل
مومن: کامل ایمان والے لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہیں : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔
ترجمہ کنز
العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ 19 الفرقان 63)
3: بشارت
الٰہی: رضائے الہی کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی
طرف سے خاص بشارت ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ 17الحج
34)
4: بخشش کا
ذریعہ : عاجزی و انکساری ایسے عظیم اوصاف ہیں
جو بخشش اور بڑے ثواب کے حصول کا ذریعہ ہیں جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہے: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمہ کنز
العرفان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات
کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور
نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے
اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)
5: جنت میں
داخلہ : تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے
محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے جیسا کہ اللہ
پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز
العرفان : یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور
نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پ 20 القصص 83)
محمد
سانول عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اللہ تبارک
و تعالی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے اور اس کی انتہا بھی مٹی ہے تو انسان
کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی تواضع اور انکساری کے ساتھ جیے ۔ عاجزی کرنے والے اللہ اور اس کے رسولﷺکو پسند ہیں ۔
ابراہیم بن
الاشعث فرماتے ہیں:میں نے فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے تواضع کے بارے میں پوچھا؟آپ
نے فرمایا: تواضع یہ ہے کہ تو حق کے لیے جھک جائے اور اس کے آگے سرخم تسلیم کر دے الخ ۔
(التواضع و
الخمول ،موسوعۃ ابن ابی دنیا ،جلد 3،ص554،مطبوعہ مکتبۃ العربیہ )
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں کئی مقامات
پر تواضع والوں کی شان بیان فرمائی ہے ۔
1،اللہ پاک
نے تواضع والوں کو اپنے حبیب ﷺ کے ذریعے خوشخبری سنائی ۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو
۔ (پارہ 17،سورة الحج ،آیت نمبر 34،)
یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی
سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے،چنانچہ اللہ پاک
کا فرمان ہے : وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔ (پارہ 15 سورة بنی اسرائیل ،آیت 37 )
یہ آیت
تمام خوبیوں کی جامع ہے ۔ کہ پرہیزگار تواضع پسند ہوتا ہے اور جو تواضع پسند ہو وہ اللہ کہ ہاں عزت ومرتبت والا
ہوتا ہے :
محمد
منعام العطارى ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فيضان مدينہ كراچی ، پاکستان)
بادشاہ
اپنی رعایہ سے عاجزی و انکساری پسند کرتا ہے ،مگر حقیقی مالک،مالِکِ حقیقی
"اللہ جلّ شانُہ" ہے،وہ تمام مخلوق کا خالق ہے اور اللہ پاک عاجزی کرنے
والوں کوپسند فرماتا ہے اور زبان حق،محبوب رب
ﷺ کے ذریعے عاجزی کرنے والوں کے لیے
بِشارت عظمیٰ کا اعلان فرماتا ہے،جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کیا ہے:
اور اے حبیب!
ص ﷺ ،آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا
دیں ۔ ( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۳۰۹، مدارک،
الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۷۳۹، ملتقطاً)
(2) الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: ترجمہ کنز العرفان:جو
زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)
اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ
لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی
ہے:
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
عاجزی کے دینی فوائد:
(1)اللہ
عزوجل نے عاجزی کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر وثواب رکھا ہے چنانچہ اللہ
پاک سورۃ الاحزاب کی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ
الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ
فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ
الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ
قرآن کنزالایمان (اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے
والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے
بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب،35)
(2)عاجزی
کرنے والوں کے لیے بشارت و خوشخبری ہے اللہ پاک سورۃ الحج کی آیت 34 میں ارشاد
فرماتا ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان :اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری
سنا دو ۔
(3) عاجزی
کرنا گویا نفس امارہ کے خلاف کھڑے ہونا،مجاہدے کے لیے تیاری کرنا اور اس کو
پچھاڑنے کی کوشش کرنا ہے ۔ کیونکہ نفس امارہ برائی کا حکم دیتا ہے اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءترجمہ کنز
الایمان :نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ۔ (سورۂ یوسف آیت 53)
عاجزی کے دنیاوی فوائد:
(1)
متواضِع یعنی عاجزی کرنے والا شخص لوگوں کے دل میں جلد گھر کرلیتا ہے کیونکہ لوگ
متکبر اور اپنی بڑائی چاہنے والے شخص کو نہیں پسند کرتے ہیں ۔
(2)عاجزی
کرنے والوں سے لوگ بات کرنا ،اُس سے ملنا اور اس کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ۔
(3)عاجزی
کرنے سے کئی دینی اور دنیاوی کاموں میں مدد و معاونت ملتی ہے ۔ لوگ اس کی مدد خوشی
سے کرتے ہیں ۔
عاجزی اختیار نہ کرنے کے نقصانات:
(1)جواللہ
کے حضور عاجزی اختیار نہیں کریگا تو وہ عذاب میں گرفتار کرلیا جاۓ گا ۔
اللہ پاک سورۃ المؤمنون کی آیت 76 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ
مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)
ترجمہ کنز الایمان : اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں
پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے
اور نہ گِڑگِڑاتے ہیں ۔
(2)آج جو
اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرنے سے بھاگے گا کل قیامت کے دن وہ خود اللہ کے حضور عاجزی سے گرا ہوگا لیکن اس وقت اس کی یہ
عاجزی قبول نہ کی جائے گی جیسا کہ قرآن پاک میں مشرکین کے حوالے سے آیا ہے: وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ
وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل،87)
(3)اگر کوئی
بندہ عاجزی نہیں کرتا تو وہ کبر یعنی تکبر کی دلدل میں جا گرتا ہے، تکبر کے اختیار کرنے کو پسند کرتا ہے اور حدیث
میں ارشاد فرمایا :جس کے دل میں رائی کے
دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ قرآن کریم میں عاجزی کو
مومن کی پہچان قرار دیا گیا ہے ۔ جو بندہ اپنے
رب کے سامنے جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ تکبر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے جبکہ تواضع
انسان کو اللہ کا محبوب بناتی ہے ۔
تواضع یعنی
عاجزی اور انکساری، اسلام کی وہ عظیم اخلاقی خوبی ہے جسے قرآن مجید نے ایمان اور
تقویٰ کا حصہ قرار دیا ہے ۔ متواضع انسان
نہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، نہ غرور و تکبر کا شکار ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ
کے بندوں کے ساتھ نرمی، محبت اور حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے ۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ تواضع کی تعلیم دی ہے اور
تکبر کو سختی سے منع فرمایا ہے ۔
تواضع کی
تعریف:اپنے آپ کو حقیقت کے مطابق سمجھنا، بڑائی کا دعویٰ نہ کرنا، اللہ کے سامنے
عاجز رہنا اور انسانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا ۔ تواضع کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور عظیم
اخلاق کی نشانی ہے ۔
قرآن پاک میں
تواضع کا بیان:تواضع اہل ایمان کی صفت ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے
بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (
پارہ 19 ، فرقان آیت نمبر 63 )
وضاحت: ارشاد فرمایا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے
کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں ۔ متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے
زمین پر مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے
کہ اس سے شریعت نے منع فرمایا ہے ۔
تواضع کی تعلیم: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ- ۔ ترجمہ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔
( پارہ 15 ،بنی اسرائیل آیت نمبر 37)
وضاحت: فرمایا کہ زمین میں اتراتے ہوئے یعنی تکبر سے
نہ چل بیشک تو ہرگز زمین کو نہ پھاڑ سکے گا اور نہ بلند پہاڑوں کو پہنچ سکے گا یعنی
۔ تکبر خود نمائی کا کچھ فائیدہ نہیں
البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم آتا ہے لہذا اترانا چھوڑ دے اور عاجزی قبول کر ۔
تواضع کرنے
والوں کی جزاء: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور
سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے
والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں
اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے
والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
۔ (پارہ 22 ،احزاب آیت نمبر 35)
وضاحت:یعنی
جو عورتیں اسلام ایمان اور اطاعت، قبول و
فعل کے سچا ہونے میں، عاجزی و انکساری کرنے میں مردوں کے برابر ہیں تو اللہ عزوجل
نے ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر کے رکھا ہے ۔
محمد حسن اعوان (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدينہ فيضان بغداد کراچی، پاکستان)
تواضع کا
لغوی معنیٰ: عاجزی، انکسار، اور آپنے آپ کو کمتر سمجھناہے ۔
اصطلاحی معنیٰ :اللہ کے سامنے مکمل
بندگی اور دوسروں کے ساتھ احترام و فروتنی سے پیش آنا ہے
۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس میں
انسان خود کو حقیر سمجھ کر اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ نرمی سے پیش
آتا ہے ۔ قرآن پاک میں کئی
مقامات پر اللہ پاک نے انسان کو تواضع اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا
جن میں سے چند آیات یہ ہیں ۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بےشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور
ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گایہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے
رب کو ناپسند ہے ۔
( سورہ بنی
اسرائیل، آیت 37، 38 )
صراط
الجنان:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب
ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار
کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے
۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام
ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن
سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی
جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے
میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ
ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور
عاجزی و انکساری قبول کرو ۔
اللہ پاک
سے دعا ہم سب کو اپنی رضا کے لیے عاجزی و انکساری کرنے کے توفیق عطا
فرمائے آمین ۔
حافظ
محمد عاطف انصاری (درجہ خامسہ جامعۃ
المدینہ فیضانِ ابو عطار کراچی ، پاکستان)
ہمیں چاہئیےکہ
ہم اپنے حسن اخلاق کو اچھا کریں ۔ اور
اخلاق کو خوبصورت بنانے کیلئے ایک بہت ہی اہم چیز تواضع ہے جو کہ ہمارے اندر کہیں
نہ کہیں پائی جاتی ہے بس ہمیں اُسے بیدار
کرنے ( جگانے) کی ضرورت ہے ۔ تواضع ہے کیا
؟ تواضع کو سمجھنے کیلئے اُسکا معنی و مفہوم ملاحظہ ہو:
تواضع کے لغوی معنی : عاجزی و انکساری
کے ہیں ۔
اصطلاحی
معنی: اپنے آپ کو کمتر سمجھنا، دوسروں کو ان کی حیثیت کے مطابق احترام دینا
اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے ۔
اللہ تبارک
و تعالیٰ عزوجل نے قرآن مجید فرقان حمید میں تواضع کو اختیار کرنے والوں اور اُسکے
ترک کرنے والوں کے انجام کے متعلق ارشاد فرمایا ہے جن میں سے چند آیات درج ذیل ہیں
: ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
العرفان : اور رحمن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل اُن سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں "بس سلام " ۔ ( پاره: 19 ، سورۃ الفرقان ، آیت نمبر 63)
اس آیت مبارک میں کامل مؤمنین کی صفات کا بیان
ہوا ہے ہمیں بھی چاہئیے کہ ہم ان صفات پر (زمین پر آہستہ چلنے اور جاہلوں سے جھگڑا
کرنے سے اعراض کرنے ) پر عمل کر کے کامل مؤمنین کی صف میں شام شامل ہو جائیں ۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ
کنز العرفان : بے شک وہ (اللہ) مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (پارہ : 14 ، سورۃ النحل، آیت نمبر: 23)
ایک انسان کو بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ
ہونا چاہیئے نہ کہ نا پسندیدہ اور اللہ کے
پسندیدہ بندوں میں شمار ہونے کا ایک راستہ
تواضع و حسن اخلاق کو اپنانا ہے ۔
اللہ پاک
سے دعاگو ہوں کہ جو کچھ تحریر کیا گیا اللہ تعالیٰ ہمیں اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ (آمین)
خیر
بخش عطاری( درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلامی تربیت
میں (تواضع) یعنی عاجزی، ملنساری، اپنی ذات کو کمتر جاننا اور لوگوں کے ساتھ نرم
رویہ اختیار کرنا ایک بہت بلند اخلاقی وصف ہے ۔
جب انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنا غرور چھوڑ دیتا ہے، تو
وہ اللہ کی رضا اور قرب کا مستحق بن جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں بے شمار آیات کریمہ اس وصف کی تاکید کرتی ہے اور اسی طرح کئی
احادیث مبارکہ بھی تواضع و انکساری کو اختیار
کرنے پر دلالت کرتی ہے ،اور بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کے بھی تواضع و انکساری
اختیار کرنے پر کئی طرح واقعات ملتے ہیں ۔
تواضع کی تعریف :انسان اپنے آپ کو دوسروں سے
بہتر نہ سمجھے ۔
1:قال اللہ
تبارک و تعالیٰ : وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (حجر،88)
یعنی ا ے
حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس
طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا
دیتا ہے ۔ (سورۃ الحجر ،پارہ 14،تحت الایۃ
88)
2:قال اللہ
تبارک و تعالیٰ : وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (لقمان،18)
یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک
اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ القلمان ،تحت الایۃ 18)
حضرت سَیِّدُنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف
کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے االلہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے ۔ مذکورہ
حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے، معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی
ہے ۔
(کتاب:فیضان
ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:556)
فرمان
رسول ﷺ :دوسروں کو معاف کرنے کے سبب اللہ عزوجل بندے کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ
عزوجل کے لیے تواضع و عاجزی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص1085)
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی عاجزی
:ایک شخص نے حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو دعا دیتے ہوئے کہا: اللہ عزوجل آپ کو آپ
کی امید کے مطابق عطا فرمائے ،یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: امید تو
معرفت کے بعد ہوتی ہے اور مجھ میں معرفت کہا ؟ ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص،1095)
ذیشان
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور، پاکستان)
اللہ رب
العالمین کا قرآن کئی طریقوں سے اپنے محبوب کی امت کی رہنمائی فرماتا ہے آئیے
چند آیتیں سنتے ہیں کہ جن میں اللہ رب العالمین نے عاجزی اور انکساری کا حکم عطا فرمایا ہے:
(1) وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز
الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے
گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پارہ14 سورت نحل آیت 87)
(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے
لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم
کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پارہ 15 سورت بنی اسرائیل
آیت24)
(3) وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ
فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ
اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے
گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے
خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پارہ 20 سورت نمل آیت87)
(4) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور
مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں
اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی
کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں
اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے
والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
۔ (پارہ 22 سورت احزاب آیت 35)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی
کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود
ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17 سورت حج آیت 34 ۔ 35)
فیصل
نوید (درجہ ثالثہ جامعۃالمدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قرآنِ کریم
ا س ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ کا بے مثل کلام ہے جو اکیلا معبود، تنہا خالق اور ساری
کائنات کا حقیقی مالک ہے، وہی تمام جہانوں کو پالنے والا اور پوری کائنات کے نظام
کو مربوط ترین انداز میں چلانے والا ہے، دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حقیقی طور پر
اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ جسے جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے جس چیز سے
چاہے محروم کر دیتا ہے ،وہ جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت و رسوائی دیتا ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت دیتا اور جسے چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور اس نے اپنا یہ
کلام رسولوں کے سردار، دو عالم کے تاجدار، حبیب ِبے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور دینِ
حق کی پیروی کرنے کی طرف بلائیں اور شرک و کفر و نافرمانی کے انجام سے ڈرائیں،
لوگوں کو کفرو شرک اور گناہوں کے تاریک راستوں سے نکال کر ایمان اور اسلام کے روشن
اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت دیں اور ان کے لئے دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی
کی راہیں آسان فرمائیں ۔ اسی کے ساتھ اللّہ تبارک وتعالٰی نے اپنے کلام پاک میں
ہمیں تواضع (عاجزی ) کا علم بھی عطا کیا ۔
تو آئیں آج ہم تواضع ( عاجزی ) کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
1، مشرکین
کی نافرمانی اور اس کا صلح : وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اس دن اللہ کی طرف
عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل :87)
2، والدین
سے رحم دلی :وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے
رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (قصص،24)
وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا
کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین
کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ
اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا
برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری
کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی
مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔ ( پارہ 15 ، سورۂ بنی اسرائیل ، آیت : 24 ،
تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )
3، جب صور
پھونکا جائے گا :وَ یَوْمَ یُنْفَخُ
فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ
شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان : اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے
جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور
حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔
(نمل،87)
وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب
اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی
قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ
کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ (
پارہ 20 ، سورۂ النمل ، آیت : 87 ، تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )
4، عاجزی
کرنے والوں کو بخشش کی بشارت : اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز
الایمان : بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور
فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور
عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے
والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے
بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب35)
اس آیت کریمہ
کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ،ایمان اورطاعت میں ،قول اور فعل کے سچا ہونے میں ،صبر، عاجزی و
انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت
کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا
ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں ،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے
طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔
Dawateislami