تواضع یعنی
عاجزی اور انکساری، اسلام کی وہ عظیم اخلاقی خوبی ہے جسے قرآن مجید نے ایمان اور
تقویٰ کا حصہ قرار دیا ہے ۔ متواضع انسان
نہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، نہ غرور و تکبر کا شکار ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ
کے بندوں کے ساتھ نرمی، محبت اور حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے ۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ تواضع کی تعلیم دی ہے اور
تکبر کو سختی سے منع فرمایا ہے ۔
تواضع کی
تعریف:اپنے آپ کو حقیقت کے مطابق سمجھنا، بڑائی کا دعویٰ نہ کرنا، اللہ کے سامنے
عاجز رہنا اور انسانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا ۔ تواضع کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور عظیم
اخلاق کی نشانی ہے ۔
قرآن پاک میں
تواضع کا بیان:تواضع اہل ایمان کی صفت ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے
بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (
پارہ 19 ، فرقان آیت نمبر 63 )
وضاحت: ارشاد فرمایا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے
کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں ۔ متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے
زمین پر مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے
کہ اس سے شریعت نے منع فرمایا ہے ۔
تواضع کی تعلیم: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ- ۔ ترجمہ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔
( پارہ 15 ،بنی اسرائیل آیت نمبر 37)
وضاحت: فرمایا کہ زمین میں اتراتے ہوئے یعنی تکبر سے
نہ چل بیشک تو ہرگز زمین کو نہ پھاڑ سکے گا اور نہ بلند پہاڑوں کو پہنچ سکے گا یعنی
۔ تکبر خود نمائی کا کچھ فائیدہ نہیں
البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم آتا ہے لہذا اترانا چھوڑ دے اور عاجزی قبول کر ۔
تواضع کرنے
والوں کی جزاء: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور
سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے
والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں
اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے
والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
۔ (پارہ 22 ،احزاب آیت نمبر 35)
وضاحت:یعنی
جو عورتیں اسلام ایمان اور اطاعت، قبول و
فعل کے سچا ہونے میں، عاجزی و انکساری کرنے میں مردوں کے برابر ہیں تو اللہ عزوجل
نے ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر کے رکھا ہے ۔
Dawateislami