تواضع کا لغوی معنیٰ: عاجزی، انکسار، اور آپنے آپ کو کمتر ‎سمجھناہے ۔

اصطلاحی معنیٰ :اللہ کے سامنے مکمل بندگی اور ‎‎ دوسروں کے ساتھ احترام و فروتنی سے پیش آنا ہے ۔ یہ ایک ‎ایسی صفت ہے جس میں انسان خود کو حقیر سمجھ کر اللہ کی رضا ‎‎ حاصل کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے ۔ ‎قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ پاک نے انسان کو تواضع اختیار ‎کرنے کا ارشاد فرمایا جن میں سے چند آیات یہ ہیں ۔

چنانچہ ارشاد ‎ہوتا ہے ۔ ‎

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمہ کنزالایمان:‎ اور زمین میں اتراتا نہ چل بےشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے ‎گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گایہ جو کچھ گزرا ان ‎میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

( سورہ بنی اسرائیل، آیت 37، 38 ) ‎

صراط الجنان:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی ‎سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے ‎اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور ‎چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور ‎لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا ‎کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ‎ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ ‎مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر ‎آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے ‎طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی ‎طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا ‎کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو ‎پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ‎معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی ‎صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی ‎و انکساری قبول کرو ۔

اللہ پاک سے دعا ہم سب کو اپنی رضا کے لیے عاجزی و انکساری ‎کرنے کے توفیق عطا فرمائے آمین ۔ ‎