خیر
بخش عطاری( درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلامی تربیت
میں (تواضع) یعنی عاجزی، ملنساری، اپنی ذات کو کمتر جاننا اور لوگوں کے ساتھ نرم
رویہ اختیار کرنا ایک بہت بلند اخلاقی وصف ہے ۔
جب انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنا غرور چھوڑ دیتا ہے، تو
وہ اللہ کی رضا اور قرب کا مستحق بن جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں بے شمار آیات کریمہ اس وصف کی تاکید کرتی ہے اور اسی طرح کئی
احادیث مبارکہ بھی تواضع و انکساری کو اختیار
کرنے پر دلالت کرتی ہے ،اور بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کے بھی تواضع و انکساری
اختیار کرنے پر کئی طرح واقعات ملتے ہیں ۔
تواضع کی تعریف :انسان اپنے آپ کو دوسروں سے
بہتر نہ سمجھے ۔
1:قال اللہ
تبارک و تعالیٰ : وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (حجر،88)
یعنی ا ے
حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس
طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا
دیتا ہے ۔ (سورۃ الحجر ،پارہ 14،تحت الایۃ
88)
2:قال اللہ
تبارک و تعالیٰ : وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (لقمان،18)
یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک
اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ القلمان ،تحت الایۃ 18)
حضرت سَیِّدُنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف
کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے االلہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے ۔ مذکورہ
حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے، معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی
ہے ۔
(کتاب:فیضان
ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:556)
فرمان
رسول ﷺ :دوسروں کو معاف کرنے کے سبب اللہ عزوجل بندے کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ
عزوجل کے لیے تواضع و عاجزی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص1085)
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی عاجزی
:ایک شخص نے حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو دعا دیتے ہوئے کہا: اللہ عزوجل آپ کو آپ
کی امید کے مطابق عطا فرمائے ،یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: امید تو
معرفت کے بعد ہوتی ہے اور مجھ میں معرفت کہا ؟ ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص،1095)
Dawateislami