محمد
حمزہ رضا (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
قرآن مجید
میں انسان کو جن اعلی اخلاقی و اوصاف سے مزین ہونے کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک
نمایاں وصف تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔
تواضع کے
لغوی: معنی ہیں جھک جانا وغیرہ تواضع سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے
برتر نہ سمجھا جائے اور تکبر سے بچا جائے ۔ عاجزی و انکساری انسان کی ایک بڑی اخلاقی خوبی ہے ۔ قرآن پاک میں جابجا
تواضع کی تعلیم دی گئی ہے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے کلام قرآن مجید میں
تکبر کی مذمت فرمائی اور تواضع اختیار
کرنے کی ترغیب دی ہے۔
مومنین کی نمایاں خوبی تواضع : اللہ
تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں جہاں کامل مومنین کے اوصاف گنوائے تو وہاں ایک وصف تواضع کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (۶۳)ترجمۂ کنز العرفان : اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان:63)
تفسیر صراط
الجنان میں ہے: کہ اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان
وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں متکبرانہ طور پر جوتے
کھٹکھٹاتے پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے
اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ان افعال کے ساتھ نہیں چلتے کیونکہ یہ متکبرین کی شان
نہیں ۔ (صراط الجنان:تحت الآیت 63)
Dawateislami