محمد بلال منظور (درجۂ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو !عاجزی بہت ہی اعلی وصف ہے جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی
مقامات پر فرمایا،اور ہمارے پیارے آقا
ﷺ جو کے تمام نبیوں کے سردار ہیں آپ کا ہر وصف آپ کی ہر ادا افضل و اعلیٰ ہے
،تواضع اعلیٰ ہے کہ آپ ہر چیز کے مالک ہوکر بھی انکساری فرماتے ۔
اسی ضمن میں
پانچ قرآنی آیات ذکر کی گئی ہیں :
(1) اللہ کی
طرف عاجزی سے گریں گے:وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی
سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پ14،سورۃالنحل، آیت87)
(2)اپنے
والدین کے لیے عاجزی کر:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے
عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا
کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔
(پ15سورۃ
بنی اسرائیل،آیت 24)
وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا
کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین
کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ
اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا
برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری
کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔
( خازن،
الاسراء، تحت الآیۃ: 24، 3 / 171، ملخصاً)
(3) اللہ کے
حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ہوئے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ
فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمہ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور
تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے
اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پ20،سورۃالنمل، آیت 87)
وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس
کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت
کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ
کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ (
مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن، النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421،
ملتقطاً)
اللہ پاک
ہمیں بھی عاجزی اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ارسلان حسن عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
(1)
عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنز العرفان:اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ ( پارہ 17 ، سورۃ الحج ، آیۃ: 34)
(2) صور
پھونکا جائے گا : وَ یَوْمَ یُنْفَخُ
فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ
شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷)ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں
اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور
عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ ( پارہ 20 ، سورۃ النمل ، آیۃ : 87)
وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب
اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی
قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ
کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن،
النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421، ملتقطاً)
(3) سورج
کا جھکنا : اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا
ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸)ترجمہ کنز العرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا
کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور
بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ ( پارہ 14 ، سورۃ النحل ، آیۃ :
48)
اس آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ
ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اُس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف
منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور
اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور
کمزوری کا اظہار کرنا ہے ۔ (تفسیرسمرقندی،
النحل، تحت الآیۃ: 48٫2/ 237، تاویلات اہل السنہ، النحل، تحت الآیۃ: 48، 3 /
89-90 ، ملتقطاً)
(4) عذاب
کے باوجود عاجزی نہ کی : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ
مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)
ترجمہ کنز
العرفان: اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور
جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ (
پارہ 18 ، سورۃ المؤمنون ، آیۃ : 76 )
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے انہیں بھوک کے عذاب میں گرفتار کر دیا تو وہ پھر بھی نہ ا س وقت اپنے
رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور جھکے ہیں اور نہ
ہی وہ آئندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
بارگاہ میں عاجزی کریں گے ۔
( جلالین
مع صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ: 76، 4 / 1373)
محمد
عدنان عطاری ( درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اسلام
تواضع اور عاجزی کا درس دیتا ہے عاجزی وانکساری میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز
پوشیدہ ہے عقل و فہم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا
بچھونا بنا لے غریبوں کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے جب انسان ان صفات کا
حامل ہو جاتا ہے تو اللہ پاک دنیا و آخرت میں عظمت و بلندی عطاء فرماتا ہے لہذا ہمیں
بھی عاجزی و انکساری اپنانی چاہیے اور غرور تکبر سے بچنا چاہیے ۔
(1) وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا
اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)
ترجمہ کنز
العرفان:اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب آپنے رب کے حضور
جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ (پ 18 سورۃ المؤمنون 76)
(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمہ کنز
العرفان:اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے
رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا ۔ (پ 15 سورۃ بنی
اسرائیل 24)
(3) اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ
شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا
لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمہ کنز العرفان:اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی
پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور
وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (پ 14 سورۃ النحل 48)
(4)وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا
اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنز العرفان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک
قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے
زبان چوپایوں سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو
اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ 17 سورۃ الحج 34)
(5) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ
وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور
فرمانبردارعورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں
اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے
اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب
کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 سورۃ الاحزاب 35)
محمد جمشید عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع کے
معنی عاجزی، انکساری، فروتنی، اور دوسروں کے سامنے خود کو کمتر سمجھنا ہے ۔ اس کا مطلب دوسروں کو ان کے مرتبے کے مطابق
احترام دینا اور حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا بھی ہے ۔ اس کا مطلب حقیر سمجھے جانے والے پیشوں کو اپنانا
یا دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا بھی ہے ۔ قرآن میں تواضع کا ذکر اس طرح ہے کہ یہ اللہ کو
بہت پسند ہے اور اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ سورہ فرقان میں اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ایک
یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین پر انکساری سے چلتے ہیں ۔ قرآنی احکامات اور نبی کریم ﷺ کے عمل سے واضح
ہوتا ہے کہ تواضع یعنی عاجزی، اپنے آپ کو حقیر سمجھنا اور دوسروں کو احترام دینا ایک
بہترین صفت ہے جس سے کبر و غرور سے بچا جا سکتا ہے ۔
حضرت سید
نا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ شہر سے باہر کہیں سفر وغیرہ پر جاتے تو راستے میں استراحت (یعنی آرام) کے
لیے مٹی کا ڈھیر لگا کر اس پر کپڑا بچھاتے اور پھر آرام فرماتے ۔ (مصنف ابن شیبہ کتاب الزهد ج 8 ص 150، حدیث : 12)
1 ۔ وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل
بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمان،18)
تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
2، تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے
کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے
۔ (القصص،83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت
جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم
ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
: ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی،
القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں :اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا
اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ
جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان
والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد
فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی
کرو حتّٰی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر
نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ،
باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ
، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث:
۶۴(۲۸۶۵))
3، وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)
تفسیر صراط الجنان:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ: اور رحمٰن کے وہ بندے: ا س سے پہلی آیات میں کفار و منافقین کے احوال اور ان کا انجام ذکر
ہوا،اب یہاں سے کامل مومنین کے تقریباً 12
اوصاف بیان کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے ۔ (1)وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
(2) جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘(3) وہ آپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے
سجدے اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں ۔ (4)جہنم کا عذاب پھر جانے کی اللہ تعالٰی سے
دعائیں کرتے ہیں ۔ (5)
اِعتدا ل سے خرچ کرتے ہیں ،اس میں نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں ۔ (6)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ۔ (7) جس جان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالٰی نے حرام فرمایا ہے، اسے قتل نہیں کرتے ۔ (8) بدکاری نہیں کرتے ۔ (9) جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔
(10)جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (11) جب انہیں ان کے رب
عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی
جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے ۔ (12) وہ یوں دعا کرتے ہیں :
اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی
ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر
جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
حضرت انس
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو
ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس
عشر)
تواضع (
عاجزی)قرآن پاک کا ایک نہایت اہم اخلاقی وصف ہے ،اللہ پاک نے متعدد مقامات پر اپنے
بندوں کو تکبر سے روکا اور عاجزی اور
انکساری کی تاکید کی ہے ،عاجری ایک ایسی خصلت ہے ،جو انسان کے اخلاق ،روحانیت،تعلقات
کو نکھار دیتی ہے ،قرآن و سنت کے مطابق عاجزی ناصرف اللہ پاک کے ہاں محبوب عمل ہے، بلکہ دنیا و آخرت
دونوں میں اللہ پاک نے انسان کے لئے عاجزی اپنانے میں بیشمار فوائد رکھے ہیں ۔
اسی
ضمن میں قرآ ن پاک سے عاجزی اختیار کرنے والوں کا وصف ملاحظہ کیجئے ،اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (آیت
نمبر63، فرقان ،پارہ19)
اللہ پاک
نے قرآن پاک میں اس آیت کریمہ سے مومنین کے تقریبا بارہ اوصاف بیان فرمائے ہیں ان
میں سرفہرست جو اللہ پاک نے وصف بیان کیا ہے وہ عاجزی ہے ،اس آیت کریمہ میں
بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان
اور وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چال چلتے ہیں ، متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے ،پاوں زور سے مارت اور
اتراتے ہوئے نہیں چلتے ہیں ،کہ یہ متکبرین کی چال ہے ،اور شریعت نے اس سے منع
فرمایا ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان،تحت الآیۃ
77)
جیساکہ
اللہ پاک نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا ہے :وَ لَا
تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ
الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ
ہیں ۔ (بنی اسرائیل،37،38)
اس آیت کریمہ
سے ثابت ہوا کہ متکبرانہ چال اللہ پاک کو بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
حضرت لقمان
رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عاجزی اختیار کرنے کا اور میانہ چال چلنے کا حکم کی تاکید کی جوکہ قرآن پاک میں کچھ یوں مذکور ہے:اللہ پاک بیان
فرماتا ہے :وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنزالعرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا،
تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (آیت نمبر 18،پارہ21سورۃ لقمان)
اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ،کہ اے میرے بیٹے جب تم چلنے لگو تو نہ بہت
تیز چلو اور نہ بہت سست ،کیوں کہ یہ دونون باتیں مذموم ہیں ،ایک میں تکبر کی جھلک
ہے اور ایک میں چھچھورا پن ہے ، بلکہ تم
درمیانی چال سے چلو ۔
عاجزی اختیار
کرنے کے چند فوائد:
(1)اللہ
کی محبت حاصل ہوتی ہے ،چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز العرفان:بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورت نحل،23)
معلوم ہوا
جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی محبت کا مستحق بنتا ہے کیوں کہ عاجزی اختیار کرنے والے اللہ
کو پسند ہیں ۔
(2)درجات
میں بلندی :عاجزی انسان کو ذلیل نہیں کرتی بلکہ اللہ کے نزدیک اس کے درجات کو بلند کرتی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو
کوئی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلند مقام عطافرماتا ہے ۔
(صحیح
،مسلم حدیث نمبر2588)
(3)عبادات
میں اخلاص پیدا ہوتا ہے :عاجز انسان اپنی عبادات کو ریاکاری سے پاک رکھتا ہے ،کیون
کہ وہ جانتا ہے کہ سب کچھ اللہ پاک کی توفیق سے ہوتا ہے ،اپنی طاقت یا قابلیت سے
نہیں ہوتا ،جیساکہ قرآن پاک میں ہے ۔
عامر فرید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع کی
تعریف:تواضع سے مراد نرمی انکساری اور عاجزی ہے یہ ایک ایسی خصلت ہے جس میں انسان
تکبر غرور اور برتری کہ احساس کو چھوڑ کر دوسروں کے ساتھ حسن اخلاق احترام اور
ملنساری کے ساتھ پیش آتا ہے ۔
(1)قیامت
کے دن سب عاجزی کرے گے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ
فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ
کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں
ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی
کرتے ۔ ( پارہ20 ، النمل آیت نمبر 87)
تفسیر صراط الجنان:یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت
کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ
میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے
حاضر ہوں گے ۔
(2)والدین
کے لیے عاجری کا اجر:وَ اخْفِضْ
لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا
رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو
بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں
نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ ( پارہ15 ، بنی اسرائیل آیت نمبر 24)
تفسیر صراط الجنان: والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ
اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت
سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار
ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔
(3)تواضع
والا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے :وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى
مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ
فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے
دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن
رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ
17سورحج آیت نمبر 34)
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تیمور
عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! دین اسلام جس طرح ہمیں نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اسی طرح ہمیں
اچھے اخلاق اپنانے کا بھی درس دیتا ہے اچھے اخلاق میں سے ایک خوبی عاجزی تواضع اختیار
کرنا بھی ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر تواضع کا بیان موجود ہے آئیے ہم بھی اس
کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
1:بخشش کا
ذریعہ : عاجزی اختیار کرنا ہے بخشش کا سبب ہے :اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمہ
کنزالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور
سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں
اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے
والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ
رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے
اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)
2: ہر شے
عاجزی کرتی ہے :عاجزی ایک ایسی صفت ہے کہ زمین و آسمان میں ہر شے اللہ پاک کے لیے عاجزی کر رہی ہے :اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ
شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا
لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنزالایمان:
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ
نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں داہنے اور
بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں ۔ (پ 14
النحل 48)
3:والدین کیلئے
عاجزی :قرآن پاک میں والدین کے لیے بھی عاجزی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ
اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض
کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا
کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پ 15 بنی اسرائیل 24)
4:خاص
خوشخبری: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع
والوں کو ۔ (پ 17 الحج 34)
5:عاجزی نہ
کرنے کا وبال : عاجزی اختیار نہ کرنے والوں کے لیے جہنم کا سخت عذاب ہے:وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا
اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ
گِڑگِڑاتے ہیں ۔ (پ18 المؤمنون 76)
اللہ پاک
ہمیں بھی عاجز اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اویس
علی عطّاری (د رجہ ثانیہ جامعۃُ المدينہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
اسلام میں
عاجزی کو مومن کا زیور اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن پاک میں بے شمار مقامات پر اللہ تعالیٰ نے
آپنے بندوں کو تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( سورۃ الفرقان: 63)
(1)ماں باپ
کے لیے عاجزی:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ
کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے
رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ ( بنی اسرائیل
پارہ 15،آیت24)
(2)تواضع
کر نے والے کی بخشش:اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ
وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمۂ کنز
الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور
فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور
عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں
اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے
والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے
بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃالاحزاب آیت35 پارہ 22)
(3)سب چیزیں
عاجزی کرتی ہے:اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ
شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا
لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور کیا انہوں
نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ
کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (سورۃالنحل آیت 48پارہ14)
(4)عاجزی
کرنے والوں کے لیے خوش خبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (سوۃالحج آیت34-35پارہ17)
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان آیات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی
حفظ و امان میں رکھے اللہ پاک ہمیں پرہیزگار متقی اور اپنا فرمانبرداربندہ بنائے ۔ آمین
ذیشان
احمد(درجۂ خامسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم بھینس کالونی کراچی ، پاکستان)
انکساری و عاجزی کا نام تواضع ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! جو شاخ جتنے زیادہ پھلوں والی ہوتی ہے اس میں
اتنا ہی زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ،اسی طرح جو
بارگاہ الہی میں جتنا زیادہ مقبول ہو اس میں اتنی ہی زیادہ عاجزی و انکساری ہوتی ہے عاجزی و انکساری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ
وہ بارگاہ الہی میں تواضع اختیار کرے اور
ان کے سامنے بھی جن کے لئے خود اللہ پاک نے تواضع کا حکم دیا جیسے انیبا ء کرام ،حاکم
،عالم اور والد نیز مسلمانوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا مستحب ہے ۔
آئیے ہم قرآن پاک سے تواضع کے بارے میں قرآن پاک
سے وضاحت ملاحظہ کیجئے :
تواضع اختیار
کرنے کا حکم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمہ
کنزالعرفان :اور مسلمانوں کے لئے اپنے بازو بچھادو ۔ (سورۃ الحجر آیت نمبر88)
یعنی ا ے
حبیب! ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت
کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور
ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے
بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)
تواضع پیدا
کرنے کا طریقہ :وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور
زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند
ہے ۔ ( لقمان، آیت نمبر18)
اس آیت کریمہ
میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے ،فرمایا اے میرے بیٹے جب تو کسی آدمی سے بات کرے تو
تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیارنہ کرنا بلکہ مال دار اور فقیر سب کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا ۔
کامل مومن
کی نشانی :وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز العرفان : اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ۔ ( فرقان، آیت
نمبر63)
امام مجاھد رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ،اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ
کی اطاعت میں تواضع اختیار کرتے ہوئے چلتے ہیں ۔ (تفسیر بغوی ،فرقان،تحت
الآیہ 63)
اس آیت میں
بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ
اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے
زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
متواضعین کی
اعلی مثال :قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح
ایک بشر ہوں ۔ (سورہ کہف آیت 110)
یعنی کہ مجھ پر بشری اعراض اور امراض طاری ہوتے ہیں اور
سورت خاصہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں ہے
، اللہ تعالی نے آپ کو حسن و صورت میں سب سے اعلی کیا ہے ، اور حقیقت و روح اور باطن کے اعتبار
سے تمام انبیاء اوصاف بشر سے آپ سب اعلی ہیں ۔ (تفسیر خزائن العرفان ،سورہ کہف،آیت 110)
تواضع اختیار
کرنے کی جزاء:وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ
کنز العرفان، اور عاجزی کرنے والوں کے لئے خوشخبری سنا دو ۔ (سورۃ الحج آیت 34)
تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کو بڑے ثواب کی خوشخبری
سنادو (یعنی) اگر تم اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری پیدا کرو گے اور اپنے
آپ کو جکاؤ گے تو اللہ پاک تمہیں بڑا ثواب عطا کرے گا ۔ ہمیں بھی اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تواضع اختیار کرنا چاہیئے تو ان شا اللہ الکریم دنیا
وآخرت میں کامیابی حاصل ہوگی ۔
محمد
شہزاد عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک ایسا
دین ہے جو انسان کو اخلاقِ حسنہ، عجز و انکساری، عدل و انصاف، اور انسانیت کی
بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ۔ ان اعلیٰ اخلاق
میں سے ایک خُلق تواضع (عاجزی و انکساری) ہے، جو ایمان کی علامت اور تقویٰ کی
پہچان ہے ۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر
تواضع کی فضیلت بیان کی اور تکبر و غرور کی مذمت کی ہے ۔ درحقیقت تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو اپنے خالق
کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنے کا درس دیتی ہے ۔
تواضع کی تعریف:لفظ "تواضع"
عربی مادہ وضع سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "جھکنا" یا "نیچا
ہونا" ۔ اصطلاحی طور پر تواضع سے
مراد ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے، بڑائی و فخر سے پرہیز کرے، اور
اپنی حیثیت کے باوجود دوسروں کے ساتھ نرمی، احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔ اسلام
میں تواضع محض ظاہری نرمی نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے، جو انسان کو غرور، خود پسندی
اور تکبر سے پاک کرتی ہے ۔
1، مومنین
کی صفت کے طور پر تواضع:اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں یعنی "عبادُ
الرَّحمٰن" کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمہ کنز العرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب
جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
یہ آیت اس
بات کی واضح دلیل ہے کہ حقیقی بندگی کا تقاضا تواضع ہے ۔ "عاجزی کے ساتھ چلنا" سے مراد صرف
چلنے کا انداز نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں نرم خوئی، وقار، اور انکساری اختیار
کرنا ہے ۔ مومن اپنی طاقت، علم یا دولت پر
فخر نہیں کرتا بلکہ خالق کے سامنے عاجز رہتا ہے ۔
2، تکبر کی
مذمت اور تواضع کی ترغیب:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا تکبر کو ناپسندیدہ
عمل قرار دیا اور متواضع بندوں کی تعریف فرمائی:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین
کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)
یہ آیت
انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ غرور بے معنی ہے ۔ انسان مٹی سے بنا ہے، اس کی طاقت محدود ہے، اس
لیے اسے ہر حال میں عاجزی اختیار کرنی چاہیے ۔ اسی طرح سورۃ لقمان میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان : اورلوگوں سے بات کرتے وقت
اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے
والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (سورۃ لقمان: 18)
یہ تعلیم ایک
اخلاقی ضابطہ ہے کہ انسان دوسروں سے برتر ہونے کا احساس نہ کرے ۔
3، اہلِ ایمان کے باہمی تعلق میں تواضع:قرآن مجید
مومنوں کو آپس میں محبت اور انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے:وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ
لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)ترجمہ کنز العرفان: ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور
مسلمانوں کیلئے آپنے بازو بچھا دو ۔ (سورۃ
الحجر: 88)
یہ آیت نبی
اکرم ﷺ کو خطاب کے ساتھ تمام مسلمانوں کے لیے مثال ہے کہ دوسروں سے برتاؤ میں نرمی
اور تواضع آپناؤ ۔ "بازو
جھکانا" بطور استعارہ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسروں پر رعب نہ
جماؤ بلکہ ان کے ساتھ محبت، شفقت اور احترام کا برتاؤ کرو ۔
انبیائے
کرام کی تواضع کے قرآنی نمونے:قرآن کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام کے کردار
میں تواضع کی بے شمار مثالیں موجود ہیں:
حضرت محمد ﷺ:اللہ کے
محبوب ﷺ کی پوری زندگی تواضع کا عملی مظہر تھی ۔ قرآن نے آپ کو حکم دیا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز العرفان: اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے
لیے اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ ۔ (سورۃ
الشعراء: 215)نبی کریم ﷺ صحابہ میں بیٹھتے تو کوئی پہچان نہ پاتا کہ کون سردار ہے
۔ آپ نہ کبھی غرور کرتے، نہ امتیاز برتتے
۔ یہی قرآن کے حکم کی عملی تفسیر تھی ۔
تواضع کے معاشرتی فوائد:تواضع فرد
اور معاشرے دونوں کے لیے رحمت ہے ۔
1، محبت و
بھائی چارہ: عاجز انسان دوسروں کے دل جیت لیتا ہے، جس سے معاشرتی رشتے مضبوط ہوتے
ہیں ۔
2، عدل و
انصاف: متواضع شخص دوسروں کے حقوق تسلیم کرتا ہے، جس سے ظلم اور ناانصافی ختم ہوتی
ہے ۔
3، علم میں
برکت: جو طالبِ علم یا عالم تواضع اختیار کرتا ہے، وہ ہمیشہ سیکھنے والا رہتا ہے ۔
4، اللہ کی
قربت: قرآن و سنت کے مطابق عاجزی اللہ کی رضا کا سبب اور تکبر اس کے غضب کا باعث
ہے ۔
عصرِ حاضر میں تواضع کی ضرورت:آج کے دور
میں مادیت، خود پسندی اور انا پرستی نے انسان سے سکون چھین لیا ہے ۔ ہر شخص برتری کی دوڑ میں ہے ۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تواضع پر مبنی تعلیمات
انسانیت کو دوبارہ توازن اور محبت کا درس دیتی ہیں ۔ اگر افراد اور قیادتیں تواضع آپنائیں تو معاشرتی
نفرتیں ختم ہو جائیں اور امن و انصاف کا دور قائم ہو سکتا ہے ۔ قرآن کریم کے نزدیک
تواضع ایمان کا زیور، اخلاقِ حسنہ کی بنیاد، اور روحانی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ یہ انسان کو خالق کے قریب اور مخلوق کے دلوں میں
محبوب بناتی ہے ۔ تکبر زوال کا سبب اور
عاجزی ترقی کا ذریعہ ہے ۔ لہٰذا ہمیں قرآن
کے اس پیغام کو حرزِ جان بنانا چاہیے کہ
لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا
ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورۃ النحل: 23)
اور یاد
رکھنا چاہیے کہ جو اللہ کے لیے جھکے گا، اللہ اسے بلند کرے گا ۔ پس تواضع ایمان کی
علامت اور اخلاق کی معراج ہے ۔ یہی قرآن
کا پیغام اور نجات کا راستہ ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں تواضع و انکسار اپنانے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ
محمد
تیمور عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! دین اسلام جس طرح ہمیں نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اسی طرح ہمیں
اچھے اخلاق اپنانے کا بھی درس دیتا ہے اچھے اخلاق میں سے ایک خوبی عاجزی تواضع اختیار
کرنا بھی ہے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر تواضع کا بیان موجود ہے آئیے ہم بھی
اس کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
1:بخشش کا
ذریعہ : عاجزی اختیار کرنا ہے بخشش کا سبب ہے :اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ
وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ
الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)
ترجمہ
کنزالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور
سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں
اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے
والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ
رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے
اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)
2: ہر شے
عاجزی کرتی ہے :عاجزی ایک ایسی صفت ہے کہ زمین و آسمان میں ہر شے اللہ پاک کے لیے عاجزی کر رہی ہے :اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ
شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا
لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی
پرچھائیاں داہنے اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں ۔ (پ 14 النحل 48)
3:والدین کیلئے
عاجزی :قرآن پاک میں والدین کے لیے بھی عاجزی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ
پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان:
اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان
دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پ 15 بنی اسرائیل 24)
4:خاص
خوشخبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع
والوں کو ۔ (پ 17 الحج 34)
5:عاجزی نہ
کرنے کا وبال : عاجزی اختیار نہ کرنے والوں کے لیے جہنم کا سخت عذاب ہے:وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا
اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ
گِڑگِڑاتے ہیں ۔ (پ18 المؤمنون 76)
اللہ پاک
ہمیں بھی عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین
اسلام کا
نظامِ حیات اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی ہے، جن میں تواضع کو نمایاں مقام حاصل ہے ۔ تواضع کا مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا،
غرور و تکبر سے بچنا، اور دوسروں سے حسنِ سلوک اور عاجزی سے پیش آنا ۔ قرآن مجید میں تواضع کو مومن کی خوبی اور تکبر
کو ہلاکت کی نشانی قرار دیا گیا ۔
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان
،آیت63)
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو
ناپسند ہے ۔ ( بنی اسرائیل،آیت37،38)
تواضع یعنی
انکساری ایک عظیم صفت ہے جسے قرآن کریم میں نہایت پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے متکبرین کو ناپسند فرمایا اور
عاجز بندوں کی مدح کی ۔ جو شخص تواضع اختیار
کرتا ہے، اللہ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے ۔ تواضع نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، محبت اور
بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے
کہ قرآن کی روشنی میں غرور و تکبر سے بچتے ہوئے انکساری اور نرمی کو اپنائیں تاکہ
ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں ۔ اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami