تواضع (
عاجزی)قرآن پاک کا ایک نہایت اہم اخلاقی وصف ہے ،اللہ پاک نے متعدد مقامات پر اپنے
بندوں کو تکبر سے روکا اور عاجزی اور
انکساری کی تاکید کی ہے ،عاجری ایک ایسی خصلت ہے ،جو انسان کے اخلاق ،روحانیت،تعلقات
کو نکھار دیتی ہے ،قرآن و سنت کے مطابق عاجزی ناصرف اللہ پاک کے ہاں محبوب عمل ہے، بلکہ دنیا و آخرت
دونوں میں اللہ پاک نے انسان کے لئے عاجزی اپنانے میں بیشمار فوائد رکھے ہیں ۔
اسی
ضمن میں قرآ ن پاک سے عاجزی اختیار کرنے والوں کا وصف ملاحظہ کیجئے ،اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (آیت
نمبر63، فرقان ،پارہ19)
اللہ پاک
نے قرآن پاک میں اس آیت کریمہ سے مومنین کے تقریبا بارہ اوصاف بیان فرمائے ہیں ان
میں سرفہرست جو اللہ پاک نے وصف بیان کیا ہے وہ عاجزی ہے ،اس آیت کریمہ میں
بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان
اور وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چال چلتے ہیں ، متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے ،پاوں زور سے مارت اور
اتراتے ہوئے نہیں چلتے ہیں ،کہ یہ متکبرین کی چال ہے ،اور شریعت نے اس سے منع
فرمایا ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان،تحت الآیۃ
77)
جیساکہ
اللہ پاک نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا ہے :وَ لَا
تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ
الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ
مَكْرُوْهًا(۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ
ہیں ۔ (بنی اسرائیل،37،38)
اس آیت کریمہ
سے ثابت ہوا کہ متکبرانہ چال اللہ پاک کو بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
حضرت لقمان
رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عاجزی اختیار کرنے کا اور میانہ چال چلنے کا حکم کی تاکید کی جوکہ قرآن پاک میں کچھ یوں مذکور ہے:اللہ پاک بیان
فرماتا ہے :وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنزالعرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا،
تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (آیت نمبر 18،پارہ21سورۃ لقمان)
اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ،کہ اے میرے بیٹے جب تم چلنے لگو تو نہ بہت
تیز چلو اور نہ بہت سست ،کیوں کہ یہ دونون باتیں مذموم ہیں ،ایک میں تکبر کی جھلک
ہے اور ایک میں چھچھورا پن ہے ، بلکہ تم
درمیانی چال سے چلو ۔
عاجزی اختیار
کرنے کے چند فوائد:
(1)اللہ
کی محبت حاصل ہوتی ہے ،چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز العرفان:بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورت نحل،23)
معلوم ہوا
جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی محبت کا مستحق بنتا ہے کیوں کہ عاجزی اختیار کرنے والے اللہ
کو پسند ہیں ۔
(2)درجات
میں بلندی :عاجزی انسان کو ذلیل نہیں کرتی بلکہ اللہ کے نزدیک اس کے درجات کو بلند کرتی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو
کوئی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلند مقام عطافرماتا ہے ۔
(صحیح
،مسلم حدیث نمبر2588)
(3)عبادات
میں اخلاص پیدا ہوتا ہے :عاجز انسان اپنی عبادات کو ریاکاری سے پاک رکھتا ہے ،کیون
کہ وہ جانتا ہے کہ سب کچھ اللہ پاک کی توفیق سے ہوتا ہے ،اپنی طاقت یا قابلیت سے
نہیں ہوتا ،جیساکہ قرآن پاک میں ہے ۔
Dawateislami