اسلام کا نظامِ حیات اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی ہے، جن میں تواضع  کو نمایاں مقام حاصل ہے ۔ تواضع کا مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا، غرور و تکبر سے بچنا، اور دوسروں سے حسنِ سلوک اور عاجزی سے پیش آنا ۔ قرآن مجید میں تواضع کو مومن کی خوبی اور تکبر کو ہلاکت کی نشانی قرار دیا گیا ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان ،آیت63)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)ترجمہ کنز الایمان:اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔ ( بنی اسرائیل،آیت37،38)

تواضع یعنی انکساری ایک عظیم صفت ہے جسے قرآن کریم میں نہایت پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے متکبرین کو ناپسند فرمایا اور عاجز بندوں کی مدح کی ۔ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے ۔ تواضع نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی روشنی میں غرور و تکبر سے بچتے ہوئے انکساری اور نرمی کو اپنائیں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔