پیارے پیارے اسلامی بھائیو !عاجزی بہت ہی اعلی وصف ہے جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر فرمایا،اور ہمارے پیارے آقا  ﷺ جو کے تمام نبیوں کے سردار ہیں آپ کا ہر وصف آپ کی ہر ادا افضل و اعلیٰ ہے ،تواضع اعلیٰ ہے کہ آپ ہر چیز کے مالک ہوکر بھی انکساری فرماتے ۔

اسی ضمن میں پانچ قرآنی آیات ذکر کی گئی ہیں :

(1) اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے:وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پ14،سورۃالنحل، آیت87)

(2)اپنے والدین کے لیے عاجزی کر:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔

(پ15سورۃ بنی اسرائیل،آیت 24)

وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔

( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 24، 3 / 171، ملخصاً)

(3) اللہ کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ہوئے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمہ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پ20،سورۃالنمل، آیت 87)

وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ ( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن، النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421، ملتقطاً)

اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔