(1) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنز العرفان:اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ ( پارہ 17 ، سورۃ الحج ، آیۃ: 34)

(2) صور پھونکا جائے گا : وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷)ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ ( پارہ 20 ، سورۃ النمل ، آیۃ : 87)

وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن، النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421، ملتقطاً)

(3) سورج کا جھکنا : اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸)ترجمہ کنز العرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ ( پارہ 14 ، سورۃ النحل ، آیۃ : 48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اُس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے ۔ (تفسیرسمرقندی، النحل، تحت الآیۃ: 48٫2/ 237، تاویلات اہل السنہ، النحل، تحت الآیۃ: 48، 3 / 89-90 ، ملتقطاً)

(4) عذاب کے باوجود عاجزی نہ کی : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ ( پارہ 18 ، سورۃ المؤمنون ، آیۃ : 76 )

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے انہیں بھوک کے عذاب میں گرفتار کر دیا تو وہ پھر بھی نہ ا س وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور جھکے ہیں اور نہ ہی وہ آئندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عاجزی کریں گے ۔

( جلالین مع صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ: 76، 4 / 1373)