محمد جمشید عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع کے
معنی عاجزی، انکساری، فروتنی، اور دوسروں کے سامنے خود کو کمتر سمجھنا ہے ۔ اس کا مطلب دوسروں کو ان کے مرتبے کے مطابق
احترام دینا اور حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا بھی ہے ۔ اس کا مطلب حقیر سمجھے جانے والے پیشوں کو اپنانا
یا دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا بھی ہے ۔ قرآن میں تواضع کا ذکر اس طرح ہے کہ یہ اللہ کو
بہت پسند ہے اور اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ سورہ فرقان میں اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ایک
یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین پر انکساری سے چلتے ہیں ۔ قرآنی احکامات اور نبی کریم ﷺ کے عمل سے واضح
ہوتا ہے کہ تواضع یعنی عاجزی، اپنے آپ کو حقیر سمجھنا اور دوسروں کو احترام دینا ایک
بہترین صفت ہے جس سے کبر و غرور سے بچا جا سکتا ہے ۔
حضرت سید
نا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ شہر سے باہر کہیں سفر وغیرہ پر جاتے تو راستے میں استراحت (یعنی آرام) کے
لیے مٹی کا ڈھیر لگا کر اس پر کپڑا بچھاتے اور پھر آرام فرماتے ۔ (مصنف ابن شیبہ کتاب الزهد ج 8 ص 150، حدیث : 12)
1 ۔ وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل
بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمان،18)
تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
2، تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے
کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے
۔ (القصص،83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت
جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم
ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
: ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی،
القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں :اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا
اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ
جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان
والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد
فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی
کرو حتّٰی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر
نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ،
باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ
، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث:
۶۴(۲۸۶۵))
3، وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)
تفسیر صراط الجنان:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ: اور رحمٰن کے وہ بندے: ا س سے پہلی آیات میں کفار و منافقین کے احوال اور ان کا انجام ذکر
ہوا،اب یہاں سے کامل مومنین کے تقریباً 12
اوصاف بیان کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے ۔ (1)وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
(2) جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘(3) وہ آپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے
سجدے اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں ۔ (4)جہنم کا عذاب پھر جانے کی اللہ تعالٰی سے
دعائیں کرتے ہیں ۔ (5)
اِعتدا ل سے خرچ کرتے ہیں ،اس میں نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں ۔ (6)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ۔ (7) جس جان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالٰی نے حرام فرمایا ہے، اسے قتل نہیں کرتے ۔ (8) بدکاری نہیں کرتے ۔ (9) جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔
(10)جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (11) جب انہیں ان کے رب
عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی
جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے ۔ (12) وہ یوں دعا کرتے ہیں :
اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی
ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر
جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)
حضرت انس
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو
ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس
عشر)
Dawateislami